تین قومی انتخابات میں دھاندلی کا بیانیہ درحقیقت تحریکِ انصاف کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں کو چھپانے کی کوشش رہا ہے، جبکہ حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔
سال 2013 کے جنرل انتخابات میں متعدد قومی اسمبلی کی نشستوں پر مسلم لیگ ن کی برتری ابتدا ہی سے مشکوک تھی۔ انتخابی نتائج کے بعد جب مختلف حلقے کھولے گئے تو حقائق سامنے آنا شروع ہوئے۔ NA-154 لودھراں اس کی واضح مثال ہے جہاں عدالتی اور انتخابی عمل کے بعد عملی طور پر فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں گیا۔ اسی طرح لاہور کے NA-122 اور NA-125 میں الیکشن ٹریبونلز نے باقاعدہ طور پر انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کو تسلیم کیا اور نتائج کالعدم قرار دیے۔
ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ جب الیکشن کے مجموعی نتائج ابھی تقریباً 60 فیصد ہی آئے تھے، تو نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے یہ جملہ کہا کہ انہیں دو تہائی اکثریت چاہیے۔ اس وقت انتخابی عمل مکمل ہو چکا تھا اور ووٹنگ کا وقت ختم ہو چکا تھا، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ دو تہائی اکثریت کس سے اور کس طریقے سے مانگ رہے تھے؟ یہ بیان خود 2013 کے انتخابات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
سال 2018 کے انتخابات میں ایک نیا الزام گھڑا گیا کہ RTS سسٹم بٹھا کر تحریک انصاف کے حق میں دھاندلی کی گئی، حالانکہ یہ الزام حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ الیکشن کی رات تقریباً 11 بجے RTS بیٹھنے سے پہلے تحریک انصاف 145 قومی اسمبلی کی نشستوں پر واضح برتری رکھتی تھی، لیکن RTS کی بحالی کے بعد یہی برتری کم ہو کر 119 نشستوں تک محدود ہو گئی۔ اگر واقعی RTS پی ٹی آئی کے حق میں استعمال ہوا ہوتا تو نشستیں کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنی چاہئیں تھیں۔ مزید یہ کہ بعد ازاں خود خواجہ آصف جیسے سینئر ن لیگی رہنما نے اپنی انتخابی کامیابی کا کریڈٹ اس وقت کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو دیا، جو اس پورے بیانیے کی نفی کے لیے کافی ہے کہ 2018 میں دھاندلی پی ٹی آئی کے حق میں ہوئی۔
سال 2024 کے جنرل انتخابات میں صورتحال اور بھی واضح ہو گئی۔ تحریک انصاف ملک بھر میں سب سے زیادہ قومی اسمبلی نشستیں لینے والی جماعت بن کر سامنے آئی۔
وفاق، پنجاب، خیبرپختونخواہ، کراچی، حیدرآباد اور بلوچستان میں عوام نے واضح اکثریت کے ساتھ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔ اس کے باوجود عوامی مینڈیٹ کو مختلف طریقوں سے تبدیل کیا گیا، نتائج بدلے گئے اور اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کی گئی۔ یہ دھاندلی کسی ایک حلقے یا ایک صوبے تک محدود نہیں تھی بلکہ ایک منظم انداز میں پورے ملک میں عوام کے فیصلے پر ڈاکا ڈالا گیا۔
ان تینوں انتخابات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ یہ ثابت کرتا ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف مسلسل سیاسی اور انتخابی ناانصافیاں کی گئیں، جبکہ دھاندلی کا الزام الٹا اسی جماعت پر ڈال کر اصل حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔