ایران کیخلاف گہری نفسیاتی، سیاسی اور معلوماتی جنگ کا واضح اظہار ہے کہ ایکس جیسے سوشل پلیٹ فارم پر اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم کو ہٹا کر ایرانی بادشاہت کے جھنڈے کو نمایاں کیا گیا۔ یہ وہی پرانا حربہ ہے جو مغربی ایجنسیاں، خفیہ ادارے، صہیونی نیٹ ورکس اور امریکی اسٹیبلشمنٹ دہائیوں سے آزماتے آ رہے ہیں، یعنی پہلے شناخت پر حملہ، پھر نظام پر یلغار، اور آخرکار انقلاب کا تختہ الٹنے کی کوشش۔ ایران آج اس خطے کا واحد ملک ہے جو کھل کر اور عملی طور پر امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے سامنے رکاوٹ بنا ہوا ہے، وہ واحد ریاست جو گریٹر اسرائیل کے ناپاک اور توسیع پسندانہ منصوبے کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک مسئلہ سمجھا جاتا ہے جسے حل کرنا مغربی ایجنڈے کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔

اگر ایران کو توڑ دیا گیا، اگر اسلامی انقلاب کو کمزور یا ناکام کر دیا گیا، تو یہ صرف ایران کی شکست نہیں ہوگی بلکہ پورے خطے کی مزاحمتی سوچ کی شکست ہوگی۔ اس کے بعد شاید اگلی کئی دہائیوں تک کوئی بھی ملک، کوئی بھی قوم، امریکہ کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہ کر سکے۔ اسی لیے ایران کو تنہا کیا جا رہا ہے، اس کی معیشت کو گلا گھونٹ کر کمزور کیا جا رہا ہے، اس کے عوام کو مہنگائی، کرنسی کی گراوٹ، بیروزگاری، عدم استحکام اور شدید معاشی دباؤ میں دھکیلا جا رہا ہے تاکہ عوام کو نظام کے خلاف کھڑا کیا جا سکے۔ لیکن ایک بنیادی حقیقت کو دانستہ طور پر چھپایا جا رہا ہے کہ یہ مسائل ایران کے اندرونی فیصلوں کا نتیجہ نہیں بلکہ بیرونی طور پر مسلط کی گئی ظالمانہ امریکی و مغربی پابندیوں کا براہ راست نتیجہ ہیں۔ وہ پابندیاں جو دواؤں، خوراک، بینکنگ، تیل، تجارت اور حتیٰ کہ انسانی ضروریات تک کو ہتھیار بنا دیتی ہیں۔
سال 2025 کی 12 روزہ جنگ میں اسرائیل کی واضح عسکری اور اسٹریٹجک شکست کے بعد ایران کے خلاف محاذ آرائی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ یہ سمجھنا ایک سنگین غلطی ہوگی کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی نوعیت بدلی ہے۔ اب بم اور میزائل کے ساتھ ساتھ میڈیا، سوشل نیٹ ورکس، افواہوں، اقتصادی دباؤ، نسلی و لسانی اختلافات اور مصنوعی احتجاجوں کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ اندرونی سازشیں اور بیرونی مداخلت ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، مقصد ایک ہی ہے کہ ایران کو کسی نہ کسی طرح جھکا دیا جائے، اس کے انقلابی تشخص کو ختم کر دیا جائے، اور اسے شام کی طرح ایک مفلوج، کمزور اور کنٹرول ایبل ریاست میں تبدیل کر دیا جائے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ایران کو اس سطح کے دباؤ کا سامنا ہے۔ ماضی میں اس سے کہیں بڑے مظاہرے، زیادہ شدید بحران، کھلی جنگیں اور براہ راست دہشت گردی ایران نے جھیلی ہے اور ہر بار ریاست اور عوام نے مل کر ان فتنوں کو ناکام بنایا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار مغرب پوری طاقت، پوری منصوبہ بندی اور ہر ممکن ذریعے کے ساتھ میدان میں اترا ہوا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب ایران مضبوط کھڑا رہتا ہے تو صرف اپنی سرحدوں کا دفاع نہیں کرتا بلکہ پورے خطے میں سامراجی منصوبوں کو پیچھے دھکیل دیتا ہے۔
اگر ایران اس مرحلے پر بھی ثابت قدم رہا تو یہ فتنہ اگلی دہائی تک سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے گا، لیکن اگر خدانخواستہ ایران کو کمزور کر دیا گیا تو اس کی قیمت صرف ایران نہیں بلکہ پورا مشرق وسطیٰ، پوری مسلم دنیا اور ہر وہ قوم ادا کرے گی جو آج بھی آزادی اور خودمختاری کا خواب دیکھتی ہے۔