‏بھارت اور پاکستان: خارجہ پالیسی؛ ایک جائزہ

بھارت کی گزشتہ 2 دہائیوں پر محیط حکمتِ عملی آج واضح طور پر نتیجہ دے رہی ہے۔ اس نے وقتی نعروں یا جذباتی وابستگیوں کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد کو بنیاد بنایا۔ امریکہ، یورپ، روس، خلیجی ممالک اور حتیٰ کہ چین کے ساتھ بھی اس نے اپنے تعلقات کو توازن اور فائدے کے اصول پر استوار رکھا۔ کسی ایک طاقت کا اندھا اتحادی بننے کے بجائے اس نے خود کو ایک ناگزیر اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر منوایا۔ آج بھارت ایک جانب خلیجی ممالک کے ساتھ تو دوسرے جانب یورپی یونین کے ساتھ تاریخی معاہدات کررہا ہے جبکہ چین کیساتھ شراکت کو بھی بڑھا رہا ہے۔

اس کے مقابلے میں ہم خود کو برسوں سے امریکہ کا اتحادی کہتے چلے آ رہے ہیں، مگر حاصل کیا ہے؟ نہ معاشی فوائد، نہ اسٹریٹجک تحفظ۔ ہم نے امریکی جنگوں میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بن کر قیمت ادا کی، اپنی زمین، اپنے وسائل اور اپنی ساکھ کو داؤ پر لگایا، مگر بدلے میں ہمیں صرف دباؤ، الزامات، سخت ترین شرائط پر قرض اور مسلسل ڈکٹیشن ملی۔ کسی بھی بنیادی قومی مسئلے پر عالمی حمایت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

اب اگر محض ٹرمپ کے ہمارے حق میں دیے گئے چند وقتی بیانات کو ہم کامیاب سفارت کاری قرار دے دیں تو پھر یقیناً ہم خود کو مطمئن کر سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان تعریفوں، ان خوش کن جملوں اور ان وقتی بیانات سے عملی طور پر ہمیں ملا کیا؟ نہ کوئی معاشی پیکج آیا، نہ تجارت میں رعایت ملی، نہ ویزا پالیسی میں نرمی، نہ کشمیر یا خطے کے کسی اہم مسئلے پر کوئی ٹھوس سفارتی سپورٹ۔ اگر یہی کامیابی ہے تو پھر ہماری توقعات ہی بہت کمزور ہوچکی ہیں۔

سفارت کاری تقریروں، ٹوئٹس اور تعریفوں کا نام نہیں ہوتی۔ اصل سفارت کاری وہ ہوتی ہے جو معیشت کو سہارا دے، ریاست کی خودمختاری کو مضبوط کرے اور قومی مفادات کو عملی فائدے میں بدلے۔

امریکی صدور کے بیانات بدلتے رہتے ہیں، پالیسیاں نہیں۔ آج تعریف، کل تنقید، اور پرسوں نیا دباؤ۔ اگر ہم ہر بار ان بیانات پر خوش ہو کر خود کو کامیاب سمجھ لیں تو یہ سفارت کاری نہیں، خود فریبی ہے۔

بھارت نے یہی فرق سمجھا۔ اس نے تعریفوں پر نہیں، معاہدوں پر کام کیا۔ اس نے وعدوں کے بجائے ڈیلز لیں، بیانات کے بجائے ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک رعایتیں حاصل کیں۔ اس کی خارجہ پالیسی ردِعمل پر نہیں بلکہ وژن پر مبنی رہی۔ اس نے 20 سال پہلے طے کر لیا تھا کہ اسے کہاں کھڑا ہونا ہے، جبکہ ہم آج بھی اپنی خارجہ پالیسی کا درست تعین نہیں کرسکے، حالانکہ دنیا اب ملٹی پولر ہو چکی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ نے ہمارے بارے میں کیا کہا، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے لیے کیا حاصل کیا۔

جب تک ہم سفارت کاری کو محض وقتی تعریفوں سے نکال کر ٹھوس قومی مفادات سے نہیں جوڑیں گے، تب تک قومی سطح پر ہمارا خسارہ جوں کا توں رہے گا۔ دنیا کمزوری پر نہیں، مفاد پر تعلقات بناتی ہے، اور جب تک ہم یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، ہم اسی جگہ کھڑے رہیں گے جہاں آج ہیں

اپنا تبصرہ لکھیں