اذان کے ابلاغ کے طریقہ کار کی ضرورت

‏اذان روح کو بیدار کرنے والی صدا ہے، مگر جب ہر گلی، ہر مینار اور ہر سمت سے ایک ہی وقت میں مختلف آوازیں مختلف فریکوئنسی اور مختلف شدت کے ساتھ بلند ہوں تو پیغام کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔

مسئلہ اذان کا نہیں، مسئلہ اس کے طریقۂ ابلاغ کا ہے۔ لاؤڈ اسپیکر ایک سہولت ہے، مگر سہولت جب بے ضابطہ ہو جائے تو سہولت نہیں رہتی۔

آج کئی علاقوں میں صورت حال یہ ہے کہ جہاں ایک ہارن اسپیکر کافی ہو سکتا ہے وہاں 3 یا 4 نصب ہیں۔ میناروں پر طاقتور ہارن لگے ہیں، آواز کی حد مقرر نہیں، فریکوئنسی کا توازن نہیں۔

نتیجہ یہ کہ اذان واضح سنائی دینے کے بجائے گونج اور شور میں بدل جاتی ہے۔

ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں تو کیا بہتر نہیں کہ سپیکر کی تعداد اور آواز کی حد متعین ہو تاکہ اہلِ محلہ کم از کم اذان سکون اور وضاحت کے ساتھ سن سکیں؟

دنیا کے کئی مسلم ممالک میں اس حوالے سے ضابطے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب میں مساجد کے بیرونی لاؤڈ اسپیکرز کی آواز کی سطح اور تعداد کے حوالے سے حکومتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ اذان اور اقامت تو سنائی دے مگر شور پیدا نہ ہو۔

اسی طرح ترکی میں مرکزی نظام کے ذریعے اذان نشر کی جاتی ہے تاکہ پورے علاقے میں ایک ہی متوازن اور ہم آہنگ صدا گونجے۔ ان اقدامات کا مقصد عبادت کو محدود کرنا نہیں بلکہ اس کے پیغام کو واضح اور مؤثر بنانا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر یہ بحث جذباتی رخ اختیار کر لیتی ہے۔ اگر کوئی یہ کہہ دے کہ سپیکرز کی تعداد یا آواز کی شدت کے لیے کوئی حد ہونی چاہیے تو فوراً فتوے کی بات شروع ہو جاتی ہے۔ حالانکہ سوال یہ ہے کہ کیا نظم و ضبط اختیار کرنا دین کے خلاف ہے؟

کیا یہ بہتر نہیں کہ ایک مسجد کا معیاری اور متوازن سپیکر پورے محلے کے لیے کافی ہو اور قریبی مساجد اندرونی نظام تک محدود رہیں؟ مقصد تو اذان کو سنانا ہے، مقابلہ کرنا نہیں۔

اسی طرح شہری منصوبہ بندی کے تحت مساجد کی تعداد، فاصلہ اور آواز کے نظام کے لیے بھی رہنما اصول ہونے چاہئیں۔ قانون سازی کا مطلب پابندی نہیں بلکہ ترتیب ہے۔ جب ٹریفک، تعمیرات اور بازاروں کے لیے قوانین ہو سکتے ہیں تو عبادت گاہوں کے صوتی نظام کے لیے رہنما اصول کیوں نہیں ہو سکتے؟

یہ معاملہ حساس ضرور ہے، مگر حساسیت کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر بات ہی نہ کی جائے۔ احترام کے ساتھ، دلیل کے ساتھ اور خیر خواہی کے جذبے سے گفتگو کی جائے تو شاید ہم ایک ایسا نظام بنا سکیں جس میں اذان کی آواز نہ صرف بلند ہو بلکہ واضح، پرسکون اور بااثر بھی ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں