بظاہر دنیا کو دکھایا یہ جاتا رہا کہ بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں پر موجود امریکہ اور یورپ ایک ’’برابر کی شراکت‘‘ میں بندھے ہوئے ہیں۔ نیٹو کی اتحاد پسندی، مشترکہ اقدار، جمہوریت کا تحفظ، تہذیب کی بقا—یہ سب نعرے دہائیوں تک اتنی شدت سے دہرائے گئے کہ حقیقت پس منظر میں دھندلا گئی۔ لیکن پردہ ذرا ہٹایا جائے تو منظر کہیں زیادہ تلخ، کہیں زیادہ غیر برابر اور کہیں زیادہ یک طرفہ نظر آتا ہے۔ امریکہ رفتہ رفتہ یورپ کو ایک بااختیار اتحادی کے بجائے ایک تابع، اقتصادی اور عسکری طور پر منحصر خطے میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ تعلقات کی گرہیں نہیں، بلکہ انحصار کی زنجیریں ہیں۔
تجارت کے محاذ پر واشنگٹن کی چالیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ جولائی 2025 میں یورپی یونین نے شدید دباؤ کے بعد امریکی ٹیرف ڈیل قبول کی جس کے تحت یورپی مصنوعات پر 15% بنیادی ٹیرف اور اسٹیل، ایلومینیم اور کاپر پر 50% تک کے بھاری جرمانہ نما ٹیرف نافذ کر دیے گئے۔ یہ حفاظتی اقدامات نہیں تھے، یہ امریکی صنعتوں کے لیے یورپ کو کمزور کرنے کی منصوبہ بندی تھی۔ یورپی صنعتی پیداوار پہلے ہی 2.1% گر چکی تھی، جرمنی کے برآمدات 2009 کے بعد بدترین سطح پر تھیں، اور ایسے وقت میں لگائے گئے یہ ٹیرف یورپ کی اقتصادی سانسیں مزید تیز کر گئے۔
امریکہ کا انفلیشن ریڈکشن ایکٹ بظاہر ماحولیاتی تعاون کا منصوبہ تھا، مگر حقیقت میں یہ یورپ کی صنعتوں کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی ایک بڑی حکمت عملی ثابت ہوا۔ امریکی حکومت 369 ارب ڈالر کی سبسڈیز دے کر جرمن، فرانسیسی اور ہالینڈ کی بڑی صنعتوں کو اپنی سرزمین پر منتقل ہونے کی ترغیب دے رہی ہے۔ 2024 میں یورپی سرمایہ کاری کا 21% حصہ امریکہ کی طرف منتقل ہوا، جبکہ یورپ کے اندرونی صنعتی سرمایہ کاری تقریباً 9% گر گئی۔ یوں یورپ کا سرمایہ، اس کے کارخانے، اس کی پیداوار اور اس کی ٹیکنالوجی خاموشی سے بحرِ اوقیانوس پار جا رہی ہے۔ یہ تعاون کا نام نہیں، یہ ایک سمت بہتا ہوا معاشی اخراج ہے۔
توانائی کے شعبے میں یورپ کی بے بسی کسی المیے سے کم نہیں۔ 2028 تک یورپی یونین امریکی ایل این جی پر سالانہ 750 ارب ڈالر خرچ کرے گی، وہ گیس جو روسی گیس کی نسبت 2 سے 3 گنا مہنگی ہے۔ یورپی عوام آج پہلے ہی امریکی صارفین سے 30 تا 50 فیصد زیادہ بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں۔ یہ ’’توانائی کی خود مختاری‘‘ نہیں بلکہ مجبوری کا سودا ہے۔ یورپ کی نہ سردی اپنی، نہ گرمی۔ نلکوں تک واشنگٹن کا کنٹرول۔
عسکری میدان میں نیٹو نے وہی کردار ادا کیا ہے جو ایک بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی پر اپنی مرضی تھوپنے کے لیے کرتا ہے۔ جون 2025 کے نیٹو سربراہی اجلاس میں یورپی ممالک پر دباؤ ڈال کر دفاعی بجٹ کو بڑھا کر مجموعی قومی پیداوار کے 5% تک لے جانے کا مطالبہ کیا گیا—ایسا بجٹ جو سڑکیں، اسپتال اور تعلیمی ادارے کھا جائے گا۔ جرمنی کو اکیلے 250 ارب یورو سالانہ دفاع پر خرچ کرنا ہوں گے۔ اس سارے رقم کا رخ کہاں ہے؟ امریکی کمپنیوں کے پاس۔ 2021 کے بعد سے یورپ میں امریکی اسلحہ فروخت تین گنا بڑھ کر 70 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے، پولینڈ سے لے کر فن لینڈ تک سب امریکی فوجی سازوسامان کی لائن میں کھڑے ہیں۔ یورپ کی اپنی دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے کے بجائے اسے امریکی کمپنیوں کا گاہک بنا دیا گیا ہے۔
صرف سرمایہ اور اسلحہ ہی نہیں، یورپ کا ذہنی سرمایہ بھی امریکہ ہڑپ کر رہا ہے۔ او ای سی ڈی کے مطابق 2020 سے 2024 کے درمیان 45 ہزار سے زائد یورپی سائنسدان، انجینئر اور ٹیک انٹرپرینیور امریکہ منتقل ہو گئے۔ کیلی فورنیا کے اسٹینفورڈ اور ایم آئی ٹی کی تجربہ گاہوں میں اب جرمن اے آئی ماہرین، فرانسیسی بائیوٹیک محققین اور اسکیڈینیوین سائنسدان کام کر رہے ہیں۔ امریکہ 3.5% جی ڈی پی ریسرچ پر خرچ کرتا ہے، یورپ صرف 2.3%۔ اس فرق کا نتیجہ ذہانت کا بہاؤ ہے—اور بہاؤ ہمیشہ اونچائی سے نیچائی کی طرف ہوتا ہے۔
یورپ کی سیاسی خود مختاری بھی واشنگٹن کی نظر میں کوئی قابلِ احترام حدود نہیں رکھتی۔ رومانیہ کے 2024 انتخابات میں امریکی سفارتی اثراندازی کسی راز کی محتاج نہیں رہی۔ فرانس اور جرمنی کی سیاسی جماعتوں پر بھی امریکی دباؤ کھلے راز کی طرح ہے۔ روس پر پابندیوں کا فیصلہ یورپ نے نہیں، واشنگٹن نے کیا—مگر قیمت یورپ نے ادا کی: 800 ارب یورو کا معاشی نقصان۔ دوسری طرف امریکی برآمدات یورپ کو 37% بڑھ چکی ہیں۔ کیا یہ اتفاق ہے یا منصوبہ؟ فیصلہ قاری پر چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ سب اعداد و شمار محض کسی نظریاتی بحث کا حصہ نہیں بلکہ ایک نئے عالمی منظرنامے کی نقشہ گری ہیں۔ یورپ کی 5.2 ملین ملازمتیں اب امریکی منڈی سے جڑی ہیں۔ توانائی کے لیے امریکی ایل این جی، پیداوار کے لیے امریکی کارخانے، دفاع کے لیے امریکی اسلحہ، ٹیکنالوجی کے لیے امریکی کمپنیوں اور سرمائے کی بھوک… یہ منظر شراکت داری کا نہیں بلکہ انحصار کا ہے۔ اور انحصار بالآخر ہمیشہ تابع داری پر ختم ہوتا ہے۔
سوال اب یہ نہیں رہ گیا کہ امریکہ یورپ کو کس طرف دھکیل رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یورپ جانا کہاں چاہتا ہے؟ کیا وہ ایک ایسی دنیا میں بقا چاہتا ہے جہاں وہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ساتھ مل کر حقیقی اسٹریٹجک خود مختاری حاصل کرے، یا پھر واشنگٹن کی عالمی حکمتِ عملی کا ایک تابع کردار بن کر رہ جائے؟ دنیا تیزی سے ملٹی پولر ہو رہی ہے۔ نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں۔ نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ فیصلہ یورپ نے کرنا ہے،شراکت دار بن کر، یا ایک کمزور و تابع ریاستی اکائی کی حیثیت سے۔اور اگر فیصلہ تاخیر کا شکار رہا، تو تاریخ کی بس کسی کا انتظار نہیں کرتی۔