خلائی میدان : 55 مسلم ممالک میں صرف ایران ہی بڑی طاقتوں کو ٹکر دے رہا ہے

دنیا میں خلائی ٹیکنالوجی آج طاقت، خودمختاری اور سائنسی برتری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ سیٹلائٹ بنانے اور انہیں اپنے تیار کردہ راکٹوں کے ذریعے خلا میں بھیجنے کی صلاحیت بہت کم ممالک کے پاس ہے۔
اگر دنیا کے اُن 10 بڑے ممالک کی فہرست دیکھی جائے جو اپنی سیٹلائٹس بھی بناتے ہیں اور انہیں اپنے لانچ وہیکلز کے ذریعے مدار میں بھیجتے ہیں تو ان میں امریکہ، چین، روس بھارت، جاپان، فرانس، برطانیہ، اسرائیل، جنوبی کوریا اور ایران شامل ہیں۔

ان ممالک میں اگر مسلم دنیا کا جائزہ لیا جائے تو صرف ایران ایسا ملک ہے جو مکمل طور پر اپنی سیٹلائٹس تیار کرنے اور انہیں اپنے مقامی راکٹوں کے ذریعے خلا میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نہ صرف سائنسی میدان میں نمایاں پیش رفت کی بلکہ خلائی شعبے میں بھی خود انحصاری کی پالیسی اختیار کی۔

ایرانی سپیس ایجنسی کے تحت ایران نے مختلف تجرباتی اور آپریشنل سیٹلائٹس تیار کیں اور انہیں سفیر، سیمرغ اور قائم جیسے مقامی لانچ وہیکلز کے ذریعے مدار میں بھیجا۔ یہ کامیابیاں ایسے وقت میں حاصل کی گئیں جب ایران کو سخت بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا تھا۔

دوسری جانب امریکا، چین اور روس جیسے ممالک دہائیوں سے خلائی دوڑ میں آگے ہیں اور ان کے پاس بھاری بھرکم راکٹ، خلائی اسٹیشن اور بین سیاروی مشنز موجود ہیں۔ بھارت اور جاپان بھی اس میدان میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ یورپی ممالک خصوصاً فرانس اور برطانیہ یورپی تعاون کے تحت خلائی پروگرام چلاتے ہیں جبکہ اسرائیل اور جنوبی کوریا نے بھی محدود مگر مؤثر لانچ صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ تاہم مسلم اکثریتی ممالک میں ترکی، پاکستان، سعودی عرب، ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک سیٹلائٹ ضرور بناتے یا خریدتے ہیں لیکن انہیں خلا میں بھیجنے کے لیے بیرونی راکٹوں پر انحصار کرتے ہیں۔

ایران کی یہ کامیابی صرف سائنسی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک اہمیت بھی رکھتی ہے، کیونکہ لانچ ٹیکنالوجی اور بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی میں تکنیکی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مغربی ممالک ایران کے خلائی پروگرام پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود ایران نے مقامی انجینئرنگ، یونیورسٹی تحقیق اور دفاعی صنعت کے تعاون سے خلائی شعبے میں خود کفالت حاصل کی ہے۔

ماہرین کے مطابق خلائی ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی مواصلاتی، موسمیاتی، دفاعی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مضبوط بناتی ہے۔

اس تناظر میں مسلم دنیا کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ 50 سے زائد مسلم ممالک میں سے صرف ایک ملک مکمل لانچ اور سیٹلائٹ صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر دیگر اسلامی ممالک تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھائیں تو وہ بھی مستقبل میں اس فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔

یوں دنیا کے 10 بڑے خلائی ممالک کی صف میں مسلم دنیا کی نمائندگی صرف ایران کر رہا ہے، جو پابندیوں اور دباؤ کے باوجود اپنی خلائی خودمختاری برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں