ایران کے اعلیٰ عہدیدار اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے امورِ خارجہ پر مشیر ڈاکٹر محمد جواد لاریجانی نے ایران کی جوہری اور عسکری صلاحیتوں سے متعلق ایک چونکا دینے والا بیان دے کر عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران دو سے تین ہفتوں سے بھی کم وقت میں ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان تناؤ اپنی انتہا کو چھو رہا ہے۔
ڈاکٹر محمد جواد لاریجانی نے مزید انکشاف کیا کہ حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران ایران نے اپنی مجموعی عسکری صلاحیتوں کا 25 فیصد سے بھی کم استعمال کیا۔ ان کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے باوجود ایران کی 75 فیصد فوجی طاقت اب بھی محفوظ ہے اور استعمال میں نہیں لائی گئی۔ ان بیانات کو ایران کی جانب سے ایک واضح بازدارانہ پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق لاریجانی کا یہ بیان امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ ایران کو کمزور یا محدود سمجھنا حقیقت کے برعکس ہو سکتا ہے۔
بیان کے آخر میں دیا گیا جملہ کہ یہ کوئی ہالی ووڈ فلم کا اسکرپٹ نہیں، دراصل اس امر کی یاد دہانی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑی محاذ آرائی کے نتائج سنگین اور دور رس ہو سکتے ہیں۔