پاکستانی میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا پر فعال معروف چینلز، ایران سے متعلق خبروں کے لیے اکثر ’’ایران انٹرنیشنل‘‘ نامی ٹی وی چینل کے مواد پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ چینل ایران مخالف بیانیہ پر مبنی ہے اور اس کی نشریات صہیونی فنڈز کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔
ایران انٹرنیشنل نے ابتدائی طور پر اپنا ہیڈکوارٹر برطانیہ میں قائم کیا تھا، جو بعد میں واشنگٹن، امریکہ منتقل کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، چینل کے بیورو دفاتر تل ابیب، فرانس اور کینیڈا میں بھی موجود ہیں۔ لیکن ایران انٹرنیشنل کا کوئی بھی دفتر، نمائندہ یا رپورٹر ایران کے اندر کسی شہر میں موجود نہیں ہے، نہ ہی ایران میں کوئی براہِ راست سٹوڈیو قائم ہے۔ چینل کی ٹیم کا زیادہ تر حصہ اسرائیل میں موجود ہے۔
ایران انٹرنیشنل کے اہم صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی رہائش گاہیں بھی اسرائیل میں واقع ہیں۔ رپورٹر بابک اسحاقی ہولون، تل ابیب کے قریب، فابریگیٹ اسٹریٹ پر مقیم ہیں۔ مستقل تجزیہ کار جاویدانفر کا گھر تل ابیب میں ہے۔ مناشے امیر، جو تہران میں منوچہر سچمہ چی کے نام سے پیدا ہوئے اور 1979 کے ایران کے اسلامی انقلاب سے قبل اسرائیل منتقل ہو گئے، بھی کئی دہائیوں سے ایران مخالف بیانیہ پھیلانے کے لیے اسرائیلی ریڈیو اور وزارتِ خارجہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
یہ صورتحال واضح پیغام دیتی ہے کہ ایران انٹرنیشنل کے مواد کا زیادہ تر حصہ ایران مخالف اور صہیونی بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لہذا پاکستانی میڈیا کو ایران انٹرنیشنل یا ایسے دیگر ذرائع سے خبر لینے سے پہلے ہوشیار رہنا چاہیے، تاکہ وہ غیر جانبدارانہ صحافت کے بجائے کسی خاص بیانیے کا حصہ نہ بن جائیں۔