عمران خان سے پاکستان کی چار نسلوں‌کا رومانس

عمران خان کے ساتھ اس قوم کا رومانس اب محض ایک سیاسی وابستگی نہیں رہا بلکہ ایک فکری اور جذباتی وراثت بن چکا ہے جو چوتھی نسل تک منتقل ہو چکی ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو وقت، عمر اور حالات کی سرحدوں کو توڑ کر ہر نسل میں اپنی الگ صورت کے ساتھ زندہ ہے۔

70 کی دہائی میں جوان ہونے والی نسل، جنریشن ایکس، عمران خان کو ایک خواب کے طور پر یاد کرتی ہے۔ ان کے لیے عمران خان وہ نوجوان ہے جس نے کرکٹ کے میدان میں ایک کمزور سمجھی جانے والی قوم کو خود اعتمادی دی، جو لارڈز کے میدان میں سر اٹھا کر کھڑا ہوا اور جس نے دنیا کو بتایا کہ پاکستانی بھی عالمی طاقتوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ یہی وہ ہیرو تھا جو بعد ازاں سیاست میں اس امید کے ساتھ آیا کہ شاید اب فرسودہ نظام بدلے گا اور عام آدمی کو عزت ملے گی۔

90 کی دہائی میں پروان چڑھنے والی نسل، جنریشن وائی، نے عمران خان کو جدوجہد کے استعارے کے طور پر دیکھا۔ یہ وہ نسل ہے جس نے شوکت خانم جیسے ادارے بنتے دیکھے، نمل یونیورسٹی کے خواب کو حقیقت بنتے دیکھا اور پھر سیاست میں عمران خان کی طویل تنہائی، مسلسل ناکامیوں اور استقامت سے بھرپور جدوجہد کا مشاہدہ کیا۔ اس نسل کے لیے عمران خان اس بات کی مثال بنے کہ اصولوں پر ڈٹے رہنے والا شخص دیر سے سہی مگر تاریخ میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔

پھر وہ لمحہ آیا جب عمران خان وزیراعظم بنے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان شدید معاشی بحران، بیرونی قرضوں، کمزور اداروں اور عالمی دباؤ کا شکار تھا، عمران خان نے 3 سال 8 ماہ تک اقتدار سنبھالا۔ یہ دورانیہ مشکلات سے بھرپور تھا، مگر اسی عرصے میں ریاستِ مدینہ کے تصور پر مبنی فلاحی اقدامات، احساس پروگرام، صحت کارڈ، کمزور طبقات کے لیے براہ راست امداد، اور ایک خوددار خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب عوام نے پہلی بار محسوس کیا کہ اقتدار ایوانوں سے نکل کر عام آدمی کے مسائل کی طرف آ رہا ہے۔

جنریشن زی کے لیے عمران خان ایک روایتی سیاستدان نہیں بلکہ ایک مزاحمتی بیانیہ ہے۔ یہ نسل سوشل میڈیا پر پلی بڑھی، اس نے طاقت کے اصل چہرے دیکھے، بیانیوں کی جنگ لڑی اور عمران خان کو اس نظام کے خلاف کھڑا واحد نمایاں چہرہ سمجھا۔ ان کے نزدیک عمران خان وہ وزیراعظم تھا جس نے عالمی طاقتوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا، جس نے آزاد خارجہ پالیسی کی بات کی اور جس کی اسی خودداری کی قیمت اسے اقتدار سے محرومی کی صورت میں چکانی پڑی۔

عمران خان کی حکومت کا خاتمہ بھی اسی نسل کے شعور کا حصہ بن چکا ہے۔ امریکی سازش، اندرونی کرداروں کی ملی بھگت اور عدم اعتماد کے ذریعے ایک منتخب حکومت کو گرانا، جنریشن زی کے لیے محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک سبق بن گیا۔ اس واقعے نے اس نسل کو یہ سکھایا کہ طاقت کیسے کام کرتی ہے اور سچ بولنے کی قیمت کیا ہوتی ہے۔

جنریشن ایلفا، جو ابھی سیاست کو مکمل طور پر نہیں سمجھتی، وہ عمران خان کو اپنے گھروں، اسکرینوں اور والدین کی گفتگو میں سنتی ہے۔ یہ نسل عمران خان کو ایک کہانی کے طور پر جان رہی ہے، ایک ایسے شخص کے طور پر جسے اقتدار ملا، پھر چھین لیا گیا، جسے قید کیا گیا مگر جھکایا نہ جا سکا۔ ان کے ذہن میں عمران خان ایک مظلوم مگر مضبوط کردار کے طور پر نقش ہو رہا ہے، اور یہی کردار آنے والے وقت میں ان کے سیاسی شعور کی بنیاد بنے گا۔

یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ اس قوم کا رومانس وقتی نہیں۔ یہ سیاست سے نکل کر تاریخ، یادداشت اور نسلوں کی نفسیات میں داخل ہو چکا ہے۔ جو لیڈر چار نسلوں میں مختلف شکلوں میں زندہ رہے، جو اقتدار میں بھی اور قید میں بھی عوام کے دلوں میں موجود رہے، وہ صرف ایک فرد نہیں رہتا، وہ ایک علامت بن جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں