جب ایران کو مغربی یا مسلکی عینک سے دیکھا جاتا ہے تو تجزیہ لازماً بغض، عناد اور یک طرفہ بیانیے کا شکار ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کے نام نہاد دانشوروں کی بڑی تعداد بھی اسی روش پر چل رہی ہے۔ یا تو وہ فرقہ وارانہ تعصبات کے زیرِ اثر ایران کے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں، یا پھر امریکہ اور مغرب کی فکری غلامی میں مبتلا ہو کر وہی بیانیہ دہرانے لگتے ہیں جو واشنگٹن اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہمارے لیے اس لیے مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ہم پاکستان جیسے کمزور، منقسم اور بیرونی دباؤ میں جکڑے ہوئے حالات کو معیار بنا کر ایران کو پرکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایران نے اپنی ریاستی ساخت، عسکری تیاری، جنگی ڈاکٹرائن، خارجہ پالیسی اور قومی بیانیہ ابتدا ہی سے امریکہ کی بالادستی کے خلاف استوار کیا ہے۔ ایران کی نظریاتی اساس ہی مزاحمت ہے، مفاہمت نہیں؛ خودمختاری ہے، غلامی نہیں۔
ایران کے اندر سیاسی و فکری تقسیم ضرور موجود ہے۔ وہاں انقلاب کے حامی بھی ہیں اور مخالف بھی۔ خامنہ ای پر تنقید کرنے والے بھی ہیں اور نظام سے ناراض آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ لیکن اس تمام اختلاف کے باوجود ایک نکتہ ایسا ہے جس پر تقریباً پوری ایرانی قوم متفق ہے، اور وہ ہے امریکی غلامی کا قطعی انکار۔ حتیٰ کہ انقلاب کے ناقدین اور قیادت کے سخت مخالفین بھی یہ بات قبول نہیں کرتے کہ ایران پر بیرونی مداخلت مسلط کی جائے یا کسی غیر ملکی طاقت کو یہ حق دیا جائے کہ وہ ایران کی خودمختاری، سرحدوں اور قومی فیصلوں کو روند ڈالے۔
یہی وہ بنیادی فرق ہے جسے سمجھنے سے انکار کیا جاتا ہے۔ ایران کو اندرونی اختلافات کے ذریعے کمزور دکھانا آسان ہے، مگر یہ ماننا مشکل ہے کہ اختلاف کے باوجود ایرانی قوم بیرونی جارحیت کے سامنے یکجا کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو مغربی بیانیے اور اس کے مقامی ترجمانوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزرتی ہے۔