قابض اسرائیلی فوج غزہ میں‌مقاصد حاصل کرنے میں‌ناکام کیسے ہوئی؟ رپورٹ

قابض اسرائیل غزہ میں زمینی جنگ میں اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسرائیلی قیادت نے اعلان کیا تھا کہ حماس اور فلسطینی مزاحمت کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا، مگر طویل زمینی آپریشن کے باوجود مزاحمت کی کمان، تنظیمی ڈھانچہ اور لڑنے کی صلاحیت ختم نہ ہو سکی۔ اسرائیلی فوج کو شہری علاقوں میں شدید مزاحمت، گھریلو جنگ، تنگ گلیوں، تباہ شدہ عمارتوں اور زیرِ زمین نیٹ ورک کا سامنا رہا جس نے اس کی روایتی عسکری برتری کو غیر مؤثر بنا دیا۔ کئی علاقوں میں فوج داخل ہونے کے بعد دوبارہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی اور مستقل کنٹرول قائم نہ رکھ سکی۔سیزفائر تک اسرائیل غزہ میں سرنگوں کے مکمل سراغ میں بھی ناکام رہا۔

اسرائیلی فوج نے متعدد سرنگوں کی دریافت اور تباہی کا دعویٰ کیا، مگر خود اسرائیلی عسکری اور انٹیلی جنس حکام نے اعتراف کیا کہ سرنگوں کا نیٹ ورک بہت زیادہ وسیع، گہرا اور پیچیدہ ہے۔ یہ نیٹ ورک سینکڑوں کلومیٹر پر محیط ہے اور اس کا بڑا حصہ جنگ بندی تک فعال رہا۔ سرنگوں کے ذریعے مزاحمت کار نقل و حرکت، حملوں کی منصوبہ بندی، اسلحے کی ترسیل اور محفوظ پناہ گاہوں کا استعمال کرتے رہے، جسے اسرائیل مکمل طور پر ختم نہ کر سکا۔فلسطینی مزاحمت نے تقریباً ہر دن ٹارگٹڈ آپریشن کیے۔ یہ کارروائیاں چھوٹے مگر مؤثر حملوں پر مشتمل تھیں، جن میں گھات لگا کر حملے، سنائپر فائر، اینٹی ٹینک میزائلوں کا استعمال، بارودی سرنگیں اور قریبی فاصلے سے چھاپہ مار حملے شامل تھے۔ ان کارروائیوں نے اسرائیلی فوج کو مسلسل دباؤ میں رکھا، اس کے جانی و مالی نقصانات میں اضافہ کیا اور پیش قدمی کو سست کر دیا۔�

اسرائیل فلسطینی مزاحمت کے اسلحے کا مکمل سراغ حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا۔ مزاحمت نے زیرِ زمین ذخائر، بکھرے ہوئے اسلحہ ڈپو، گھریلو ساختہ ہتھیار اور موبائل لانچنگ سسٹمز استعمال کیے۔ سرنگوں اور شہری آبادی کے اندر چھپے اسلحے کی وجہ سے اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس ادارے مزاحمتی ہتھیاروں کے مکمل نیٹ ورک کو تباہ نہ کر سکے۔

اس آپریشن میں اسرائیل کی متعدد بریگیڈز اور ڈویژنز شریک رہیں۔ مختلف مراحل میں گولانی بریگیڈ، گیواتی بریگیڈ، کفیر بریگیڈ، 7ویں آرمرد بریگیڈ، پیرا ٹروپرز کی 35ویں اور 55ویں بریگیڈز، اور دیگر اسپیشل فورسز اور انجینئرنگ یونٹس غزہ میں تعینات رہے۔ اس کے باوجود اتنی بڑی عسکری قوت بھی زمینی سطح پر فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ کر سکی۔فلسطینی مزاحمت کی چھاپہ مار کارروائیاں غیر معمولی طور پر مؤثر ثابت ہوئیں۔

محدود وسائل کے باوجود مزاحمت کاروں نے وقت اور جگہ کا انتخاب خود کیا، اسرائیلی فوج کو غیر متوقع حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور کئی مواقع پر اسرائیلی دستوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ یہی وجہ ہے کہ گوریلا جنگ میں اسرائیلی فوج مسلسل مشکلات کا شکار رہی اور ایک منظم مگر غیر روایتی مزاحمت کے سامنے واضح برتری قائم نہ کر سکی۔مجموعی طور پر غزہ کی جنگ نے یہ ثابت کیا کہ جدید ٹیکنالوجی، بھاری اسلحہ اور بڑی تعداد میں بریگیڈز کے باوجود اسرائیل نہ تو مزاحمت کو ختم کر سکا، نہ سرنگوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کر پایا، اور نہ ہی اہلِ غزہ کو توڑنے میں کامیاب ہوا۔ جنگ بندی تک صورتحال یہی رہی کہ مزاحمت برقرار تھی اور اسرائیلی اہداف ادھورے تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں