پاکستان کی اسرائیل تسلیم کرنے کی مشروط رضامندی؟

‏آج دفترِ خارجہ کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت یعنی اسرائیل کو تسلیم کرنے کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

یہ وہی پرانا اور فریب پر مبنی فارمولا ہے جس کے تحت اردن نے اسرائیل کو تسلیم کیا، مصر نے اسرائیل کو تسلیم کیا، اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ دہائیاں گزر گئیں، نہ فلسطین آزاد ہوا، نہ کسی حقیقی فلسطینی ریاست کا وجود قائم ہو سکا، اور نہ ہی امریکہ یا اسرائیل نے کبھی سنجیدگی سے آزاد فلسطینی ریاست بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ یہ محض ایک سیاسی لولی پاپ ہے جس کے ذریعے عرب اور مسلم ممالک سے تسلیم کروایا گیا، جبکہ زمین پر اسرائیلی قبضہ، آبادکاریاں، نسل کشی اور جبر پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ دو ریاستی حل سے کبھی حل نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ منصوبہ خود فلسطینیوں کے ساتھ دھوکے پر مبنی تھا۔ فلسطین کا واحد منصفانہ، تاریخی اور اخلاقی حل ایک ہی فلسطینی ریاست ہے، وہ فلسطین جو تاریخ، جغرافیہ اور بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی عوام کا حق ہے۔

اسرائیل ایک ناجائز، مسلط کردہ اور نوآبادیاتی ریاست ہے، جس کی بنیاد ہی ظلم، جبری قبضے اور نسل پرستی پر رکھی گئی۔ ایسی ریاست کو کسی شرط، کسی اگر مگر، یا کسی وعدے کے بدلے تسلیم کرنا نہ اصولی طور پر درست ہے اور نہ اخلاقی طور پر قابلِ دفاع۔

اگر واقعی فلسطینی عوام کے حق میں بات کرنی ہے تو تسلیم، معاہدوں اور بیانات کی سیاست سے نکل کر صاف اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔

فلسطین کی آزادی کسی اسرائیلی منظوری یا امریکی ضمانت کی محتاج نہیں، بلکہ یہ ایک تاریخی حق ہے، اور ناجائز ریاست کو تسلیم کر کے اس حق کو کبھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں