قابض اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس میں محض دو نئے استعماری منصوبوں پر غور نہیں کر رہے بلکہ شہری منصوبہ بندی کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے تنازعے کے ایک نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس مرحلے میں نقشے سیاسی فیصلوں کے آلہ کار بن چکے ہیں اور منصوبہ بندی کی کمیٹیاں خاموش ہتھیار کے طور پر بروئے کار لائی جا رہی ہیں تاکہ شہر کی ازسرِنو تشکیل کی جائے اور ایسے ناقابلِ واپسی حقائق مسلط کیے جائیں جو فلسطینی وجود کو شدید خطرے سے دوچار کر دیں۔
القدس گورنری نے خبردار کیا ہے کہ نام نہاد ضلعی منصوبہ بندی و تعمیراتی کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل دو منصوبے شہر کو یہودیانے کے منصوبے میں ایک بڑی جست کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گورنری کے مطابق یہ منصوبے اس بات کو بے نقاب کرتے ہیں کہ قابض اسرائیل بتدریج توسیع کی پالیسی سے نکل کر مکمل جغرافیائی محاصرے کی حکمت عملی اختیار کر چکا ہے، جس کا مقصد بیت المقدس کو اس کے فلسطینی ماحول سے مکمل طور پر کاٹ دینا ہے۔
عطیروت منصوبہ مقبوضہ بیت المقدس کے سابق بین الاقوامی ہوائی اڈے کی اراضی کو نشانہ بنا رہا ہے، جو فلسطینی سیاسی شعور میں غیر معمولی علامتی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ہوائی اڈہ مستقبل کی کسی بھی ممکنہ سیاسی مفاہمت میں فلسطینی خودمختاری کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس اراضی کو اب ایک وسیع استعماری بلاک میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں تقریباً 9000 رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے، یوں القدس کے شمالی حصے کو ایک بند اور منقطع قابض اسرائیلی بلاک میں بدلا جا رہا ہے۔
استعماری امور کے ماہر خلیل التفکجی کے مطابق اس منصوبے کا اصل خطرہ محض رہائشی یونٹس کی تعداد نہیں بلکہ ان کا محلِ وقوع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کے ذریعے قابض اسرائیل القدس کو رام اللہ سے جوڑنے والی واحد شریان کو کاٹ رہا ہے اور شہر کو ایک ایسے تنہا جزیرے میں تبدیل کر رہا ہے جو مکمل استعماری محاصرے میں ہوگا۔ ان کے بقول، جس شہر کا کوئی جغرافیائی پھیلاؤ نہ ہو اور جو مغربی کنارے سے منقطع ہو جائے، وہ کسی بھی صورت ایک ممکنہ دارالحکومت نہیں بن سکتا۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق صرف عطیروت منصوبے پر عمل درآمد سے ہی چند برسوں میں دسیوں ہزار قابض اسرائیلی آبادکار القدس میں لا بسیں گے، جبکہ اسی دوران فلسطینی محلوں کو منظم انہدامی پالیسیوں، تعمیراتی اجازت ناموں کی بندش اور بھاری ٹیکسوں کا سامنا رہے گا، جو فلسطینی باشندوں کو جبری ہجرت پر مجبور کرنے کا سبب بنیں گے۔ تفکجی کے مطابق قابض اسرائیل مکانات نہیں بلکہ آبادیاتی توازن کو ازسرِنو ترتیب دے رہا ہے، جہاں ہر نئی استعماری یونٹ کے مقابل ایک فلسطینی خاندان اپنے وجود کے خاتمے کے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔
شیخ جراح کا محلہ استعماری پالیسی کی سب سے عریاں اور بے رحم مثال بن چکا ہے۔ نحلات شمعون منصوبہ کسی خالی زمین کو نہیں بلکہ ایک آباد فلسطینی محلے کو نشانہ بنا رہا ہے، جہاں دہائیوں سے خاندان آباد ہیں۔ اس منصوبے کے تحت پورے محلے کو مسمار کر کے اس کی جگہ نئی یہودی بستی قائم کرنے کا ارادہ ہے۔ القدس کے مقدمات میں مہارت رکھنے والے وکیل مدحت دیبہ کے مطابق یہ عمل کھلی جبری بے دخلی ہے، جہاں قابض اسرائیل دوہرے قانونی نظام کو استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق قوانین آبادکاروں کے تحفظ کے لیے بنائے جاتے ہیں جبکہ فلسطینی انہی قوانین کے ذریعے کسی بھی حقیقی قانونی تحفظ سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نشانہ صرف نئی آبادکاری نہیں بلکہ فلسطینی محلوں کے شہری اور سماجی تانے بانے کو توڑنا ہے۔ یہ عمل کرم المفتی اور جبل المشارف سے گزرنے والے استعماری رابطہ منصوبوں کے ذریعے عبرانی یونیورسٹی کے اطراف تک پھیلایا جا رہا ہے۔ مقدسی کارکن ناصر الہدمی کے مطابق مقصد شیخ جراح کو دو حصوں میں تقسیم کرنا اور اس کے تاریخی کردار کو مٹا دینا ہے تاکہ یروشلم کے اندر قابض اسرائیلی تسلسل پیدا کیا جا سکے، جس کی قیمت فلسطینی محلوں کو چکانا پڑ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تمام منصوبے ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد سبز لکیر کو مکمل طور پر مٹانا اور یروشلم کو قابض اسرائیلی وژن کے مطابق ایک متحد شہر کے طور پر پیش کرنا ہے، بغیر اس کے کہ بین الاقوامی قانون یا سیاسی حقائق کو کوئی اہمیت دی جائے۔ خلیل التفکجی کے مطابق یہ پالیسیاں چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہیں کیونکہ قابض ریاست کی آبادی کو مقبوضہ علاقوں میں منتقل کرنا ایک جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
القدس گورنری نے زور دے کر کہا ہے کہ یہ اقدامات محض شہری منصوبے نہیں بلکہ شہر، اس کے باشندوں اور اس کی تاریخ کے خلاف ایک وجودی جنگ ہیں۔ گورنری نے خبردار کیا ہے کہ عالمی برادری کی خاموشی قابض اسرائیل کو زمینی حقائق مسلط کرنے کی مزید ہمت دے رہی ہے، جس کے نتائج نہ صرف بیت المقدس بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین ہوں گے۔