جرمن وزیر دفاع بورس پیستورئیس نے خبردار کیا ہے کہ نیٹو اور روس کے درمیان 2028 یا 2029 تک براہِ راست جنگ چھڑ سکتی ہے، اور اس لیے اتحادی ممالک کو اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ برلن کی 761 بلین ڈالر کی قرض پر مبنی فوجی تیاری کے تناظر میں، یہ تیاری خاص طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے۔یہ بیان اس سلسلے میں پہلا نہیں ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے جون 2025 میں خبردار کیا ہے کہ روس اگلے پانچ سالوں میں نیٹو کو ایک براہِ راست خطرہ بنا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیٹو کو اپنے دفاعی نظام میں ایک “کوانٹم لیپ” لینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ہوائی اور میزائل دفاع میں۔ اسی دوران، جرمن چیف آف ڈیفنس جنرل کارسٹن بروئر نے بھی خبردار کیا ہے کہ نیٹو کو 2029 یا اُس سے پہلے روس کے ممکنہ حملے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
ایک اور خطرے کا عنصر یورپ کی انفراسٹرکچر ہے۔ یورپ کے ٹرانسپورٹ چیف اپوسٹولوس ٹزِٹژیکوسٹاس نے الفاظ میں کہا ہے کہ یورپ کا موجودہ روڈ اور ریلوے نیٹ ورک جنگ کی صورت میں ٹینک اور فوجی ساز و سامان کی جلد نقل و حمل کے لیے ناکافی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ 500 اہم پراجیکٹس کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً 17 ارب یورو کی لاگت کا منصوبہ ہے تاکہ نقل و حمل میں تاخیر نہ ہو اور فوجی تیاری کو تیز کیا جاسکے۔ روسی رد عمل بھی واضح ہے۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے خبردار کیا ہے کہ نیٹو دفاعی اخراجات بڑھا کر خود اتحاد کو کمزور کر رہا ہے اور اس ممکنہ تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی طرح، جرمن ایک خفیہ انٹیلی جنس جائزے کی رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ روس اگلے چند برسوں میں مغربی اتحاد کے خلاف ایک بڑی روایتی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔
اسی دوران، جرمن روزنامہ دی ویلٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک خفیہ نیٹو تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ روس کا نیوکلیئر طاقتور، لامحدود رینج والا بیوریوِسٹنک کروز میزائل اتحادی منصوبوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ یہ وہ میزائل ہے جس کا تجربہ کچھ ماہ قبل کیا گیا تھا۔ نئے جوہری کروز میزائل بوریویسٹنک نے 14 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور یہ میزائل تقریباً 15 گھنٹے فضا میں رہا۔روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ اہم جوہری کروز میزائل کے ٹیسٹ مکمل ہوچکے ہیں۔ یہ میزائل 900 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار، بڑھتی ہوئی مانور صلاحیت، موبائل لانچ کی قابلیت اور ہوا سے دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تجزیہ کے مطابق بیوریوِسٹنک، اوریشنک IRBM اور پوسائیڈن ٹورپیڈو روس کا نیا تینہ نیوکلیئر ہتھیاروں کا جوڑا ہیں، جو خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں۔بیوریوِسٹنک میزائل کے ہدف بنیادی فوجی اور لاجسٹک مراکز ہیں۔۔۔ان ہدفوں میں بڑے نیٹو فضائی اڈے شامل ہیں، جیسے رومانیہ کا میخائل کوگالنیچیانو ایئر بیس، جو بلیک سی کے قریب واقع ہے، اور پولینڈ کا 33 واں ایئر بیس، جو مشرقی یورپ میں ایک اسٹریٹجک مقام پر ہے۔ جرمنی میں رامسٹائن اور اسپانگڈاہلم کے اہم ہوائی اڈے ہیں، جب کہ برطانیہ کے RAF لاکن ہیٹھ اور میلڈن ہال اڈے بھی نشانے کی فہرست میں ہیں۔ امریکہ کے نیوکلیئر میزبان مقامات بھی خدشے کی زد میں ہیں، جن میں وولکیل، کلائن بروگل، بوشل، گیڈی، ایویانو اور انسیرلک شامل ہیں۔فوجی چھاؤنیوں میں USAG آنسباخ، رائن لینڈ‑فالز، سٹٹ گارٹ، ویسبادن اور بینیلوکس کو بھی ہدف سمجھا گیا ہے۔ بحری اور فضائی اسٹیشنز جیسے روٹا، نیپلز اور سگونیلہ بھی ممکنہ نشانے ہیں۔
میزائل دفاع کے لحاظ سے، ڈیویسلو اور ریڈزیکوو میں ایجِس ایشور سائٹس بھی اس میزائل کی حد میں آتی ہیں۔مزید برآں، نیٹو کے لاجسٹک مراکز بھی خطرے میں ہیں، جن میں ایندھن اور ہتھیاروں کے ڈپو، ٹرک اور ریلوے ٹرمینلز، فضائی ٹرمینلز، اور سمندری بندرگاہیں شامل ہیں جیسے روتردیم، اینٹورپ اور ہیمبرگ،بیوریوِسٹنک کی لامحدود رینج کے باعث یہ میزائل امریکی مقامات تک بھی پہنچ سکتا ہے، جس سے سٹریٹیجک فضائی اور سمندری نقل و حمل متاثر ہو سکتی ہے۔ ان میں ویرجینیا کا نارفولک نیول بیس، کیرولائنا، فلوریڈا، نیواڈا اور یوٹاہ کے فضائی اڈے، اور زمینی فوجی اسٹیشنز جیسے فورٹ ہڈ، فورٹ بلیس اور ٹیکساس کے بیومونٹ اور ہیوسٹن میں آرمڈ ٹرانزٹ پوائنٹس شامل ہیں۔جہاں تک اوریشنک اور پوسائیڈن میزائل کا تعلق ہے، تجزیہ کے مطابق اوریشنک کو نیوکلیئر یا غیر نیوکلیئر پہلے حملے یا اس کے بعد کے حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پوسائیڈن میزائل اتحادیوں کے اندازے کے مطابق اسٹریٹیجک بندرگاہوں کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ تمام معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ روس کی نئی نیوکلیئر صلاحیتیں نیٹو کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں اور مستقبل میں عالمی فوجی اور جغرافیائی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں نتیجتاً اگر ہم خلاصے کی جانب جائیں تو نیٹو کے اعلیٰ عہدیدار اور دفاعی حکام اب روس کے ساتھ ممکنہ بڑے تصادم کو صرف تصور ہی نہیں کر رہے بلکہ اسے حقیقی خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔یورپی دفاعی اور نقل و حمل کی صلاحیتیں اس بات کی تیاری میں ہیں کہ نیٹو کو جلدی اور بڑے پیمانے پر ردعمل دینا پڑے۔
روس کی جانب سے مسلسل عسکری تیاری اور ہتھیاروں کی پیداوار، اور نیٹو کی بڑھتی ہوئی اسلحہ خریداری، خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا رہے ہیں۔اگر یہ پیشین گوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں، تو 2028–2029 وہ دور ہو سکتا ہے جب یورپ میں نیٹو اور روس کے درمیان ایک ممکنہ براہِ راست جنگ کا منظرنامہ حقیقت بن جائے۔