سعودی عرب میں شیطانی پارٹیاں‌، ہالووین تقریبات نے نئی بحث چھیڑ دی

سعودی عرب، جہاں اسلام کی مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ واقع ہیں، ایک ایسا ملک ہے جو مذہبی تقدس، اسلامی اقدار اور روحانی وقار کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں کی نگاہ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سال 2025 میں مختلف شہروں میں ہیلووین طرز کی تقریبات، پارٹیوں اور ہارر ایونٹس کے فروغ اور دنیا بھر میں ان پارٹیوں کی خصوصی پذیرائی نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

ریاض، جدہ اور طائف میں منعقدہ یہ ایونٹس، جن میں کچھ فیملی فرینڈلی تھے اور کچھ بالغوں کے لیے مختص تھے، یقیناً مغربی تہذیب کے خوفناک، شیطانی اور غیر اسلامی عناصر پر مبنی ہیں، جو اسلامی معاشرتی اقدار اور روحانی ماحول کے لیے ایک چیلنج ہیں۔یہ تقریبات، جو ملبوسات، زومبی تھیم، ویمپائر یا ہارر ہاؤسز پر مرکوز ہیں، سعودی معاشرے کے روایتی اور مذہبی پہلو سے متصادم معلوم ہوتی ہیں۔ اگرچہ انتظامیہ انہیں محض تفریحی سرگرمیوں کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن یہ عالمی سطح پر منائی جانے والی ہیلووین کی شیطانی تہوار کی علامتی خصوصیات سے مکمل طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ اس طرح کے ایونٹس، جہاں ڈراؤنے مناظر، خوفناک لباس اور خوف انگیز موسیقی کو فروغ دیا جاتا ہے، نہ صرف نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں بلکہ مذہبی اور اخلاقی تربیت کے لیے ایک منفی مثال بھی قائم کرتے ہیں۔

سعودی عرب کو دنیا بھر کے مسلمانوں کی نگاہ میں احترام اور تقدس کا حامل ملک سمجھا جاتا ہے، اور ایسے مواقع جہاں شیطانی تھیم، خوفناک ملبوسات اور غیر اسلامی سرگرمیاں فروغ پائیں، یہ تصور کمزور کر سکتی ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں کے لیے خوفناک ماحول، زومبی اور شیطانی کردار، اور مغربی طرز کی “ڈسکو” یا پارٹی کلچر، اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں اور معاشرتی و اخلاقی تربیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں

اپنا تبصرہ لکھیں