اقبال کا مرد مومن۔۔۔ سید عتیق الرحمن

دور حاضر میں ایک مقولہ مشہور ہے کہ ملا کی دوڑ مسجد تک، اس کی مشہوری میں جہاں ہماری سوسائٹی کا منفی رویہ ہے وہیں ہمارے ملاؤں کا منفی کردار بھی شامل ہے، تاریخ دیکھیں تو مساجد کمیونٹی سنٹرز ہوا کرتیں تھیں جہاں صرف صوم وصلوۃ نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہوا کرتے تھے

مگر اب علماء نے دین متین کو اپنے اپنے دائرے میں بند کرکے اپنی دوڑ محدود کرلی ہے، ایسے وقت میں بھی کچھ علمائے کرام ایسے ہیں جن کا کردار مثالی ہے، میں عمومی طور پر بائیوگرافی لکھنے کا ماہر نہیں مگر گزشتہ دنوں ایک نوجوان سے ہونی والی ملاقات نے اس سے متعلق لکھنے پر مجبور کیا، میری مراد گجرات کے نواحی گاؤں بوکن موڑ کے ایک حافظ قرآن اور نوجوان سکالر سید عتیق الرحمن ہیں۔

انہوں نے گجرات کے نواحی گاؤں بوکن شریف میں 14مارچ 1988میں ایک روحانی گھرانے میں آنکھ کھولی، آپ کے والد محترم سید زاہد صدیق شاہ بخاری کا شمار دور حاضر کے عظیم مذہبی مدرسین میں ہوتا ہے، 40سال سے وہ اسی علاقے میں فیضان علم کے چشمے بہارہے ہیں۔ جبکہ آپ کے دادا جی حکیم سید محمد سعید بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے وقت کے ایک کامل ولی ہو گزرے ہیں،

روحانی گھرانے میں آنکھ کھولنے کے ساتھ ساتھ ان کا سلسلہ ایک اور عظیم روحانی در سے جڑتا ہے، ان کے والد محترم جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کے ارادت مند ہیں، جبکہ سید عتیق الرحمن پیر کرم شاہ کے سجادہ نشین پیر امین الحسنات شاہ کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں،

یہی وجہ ہے کہ آپ کی دینی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوگیا، جبکہ اپنے ہی گاوں کے ایک سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعدازاں میٹرک اور ایف اے گوجرانوالہ بورڈ سے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا، اور گجرات یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔

یونیورسٹی آف سرگودھا سے آپ نے پہلے اردو میں ماسٹرز کیا، پھر انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی، آپ کی تعلیمی پیاس ختم نہ ہوئی تو قانون کے میدان میں آکودے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا، جبکہ ایل ایل ایم جاری ہے۔

دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ سید عتیق الرحمن کی دینی پیاس میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا رہا، اپنے بچپن میں ہی حفظ قرآن مجید کی دولت سے مالامال ہوئے، حفظ میں ان کے استاد قاری محمد لطیف رہے جن کا تذکرہ آج بھی وہ محبت سے کرتے ہیں جبکہ اپنے ہی والد محترم کے جامعہ محمدیہ غوثیہ بوکن شریف سے یہ سعادت حاصل کی، جامعہ محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سے درس نظامی اور دورہ حدیث مکمل کیا۔

سید عتیق الرحمن کا یہ22سالہ تعلیمی کیرئیر اپنی مثال آپ ہے، پہلی جماعت سے لے کر ایل ایل ایم تک اور یسرنا قرآن کے پارے سے لے کر دورہ حدیث اور درس نظامی تک آپ دینی و دنیوی تعلیم کے حسین امتزاج میں پلے بڑھے، مستقبل میں پی ایچ ڈی کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔اپنے تعلیمی سفر کے دوران اللہ کریم نے انہیں فن خطابت میں بھی ملکہ عطا کررکھی ہے،

زمانہ طالب علمی میں دو دفعہ پنجاب بھر کے تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی، کھیلوں میں فٹ بال سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔ گو کہ تعلیمی سفر ابھی جاری ہے مگر عملی میدان میں بھی سید عتیق الرحمن نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنا شروع کردیئے ہیں، بحثیت ایجوکیشنسٹ انہیں اپنے والد محترم نے اپنے ادارے کے وائس پرنسپل کی ذمہ داری دے رکھی ہے، جبکہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے سکول سسٹم ڈائریکشن سکولز کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ ہیں،

اس ذمہ داری پر ابھی انہیں مختصر عرصہ ہی ہوا ہے مگر انہوں نے اس نیٹ ورک کی جڑیں پاکستان کے کونے کونے میں پھیلائی ہیں اور اسلام آباد اور گجرات کے گردو نواح میں اپنے ذاتی پرائیویٹ سکول بھی چلاتے ہیں،ساتھ ساتھ HATگروپس آف کمپنیز کے ایم ڈی ہیں اور کاروان حسنات و برکات پرائیویٹ لمیٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جس نے انتہائی کم عرصے میں اس میدان میں نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ اب اس کا شمار ٹاپ500میں ہوتا ہے۔

گجرات چیمبر آف کامرس نے سید عتیق الرحمن کو Emergingبزنس مین برائے سال2019کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ خطابت کے ساتھ اب کتابت کی طرف بھی رخت سفر باندھ چکے ہیں، ان کی پہلی کتاب منزل اور مقصد چھپنے کیلئے تیار ہے، سید عتیق الرحمن مستقبل قریب میں اسلام کی عالمگیر کی خدمت کا ارادہ رکھتے ہیں،اس کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کررکھا ہے،

بلاشبہ اللہ کریم نے ان پر خصوصی کرم کررکھا ہے جس کی بدولت محض31سال کی عمر میں انہیں تاریخ ساز کامیابیاں ملیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تحریر محض ملاقات کی وجہ سے نہیں بلکہ ان تمام کامیابیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد تحریر کیا ہے، یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ سید عتیق الرحمن حقیقی طور پر اقبال کے مرد مومن کی تعریف پر پورا اترتے ہیں،

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کام کیونکہ عام نہیں ہے، اسلئے ان کا نام بھی عام نہیں رہے گا، کیونکہ جو نوجوان ستاروں میں کمند ڈالنے کا فیصلہ کرلیں اور شکوہ ظلمت شب کے بجائے اندھیروں میں دیپ جلانے کی کوششیں شروع کردیں، وہ عام نہیں رہتے بلکہ خاص ہوجاتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں