20 سے زائد امریکی طیاروں کی تباہی، ایران پر جارحیت نے امریکی غرور خاک میں ملا دیا

گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی فضائیہ کو غیر معمولی اور بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے نہ صرف جنگی صورتحال کو ایک نیا رخ دیا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اصفہان کی فضاؤں میں ایک امریکی سی-130 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جس کا ملبہ بعد ازاں مختلف ذرائع سے سامنے آیا، یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حساس فضائی حدود میں امریکی نقل و حرکت کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز ایک امریکی ایف-15 جنگی طیارے کے تباہ ہونے کی رپورٹس بھی موصول ہوئیں، جبکہ ایک بوئنگ سی ایچ-47 چنوک ہیلی کاپٹر بھی حملے کا نشانہ بن کر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ مزید برآں امریکی اے-10 وارتھوگ طیارے کی تباہی کی تصدیق بھی سامنے آئی ہے، جو کہ زمینی حملوں کے لیے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اسی دوران دو امریکی ریسکیو ہیلی کاپٹرز کے جزوی طور پر تباہ ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ نہ صرف حملہ آور بلکہ امدادی مشنز بھی محفوظ نہیں رہے۔

اگر اس جنگ کے گزشتہ 36 دنوں کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو صورتحال مزید سنگین دکھائی دیتی ہے، جہاں اب تک 20 سے زائد امریکی جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹرز یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا جزوی نقصان کے باعث سروس سے باہر ہو گئے ہیں۔ فضائی محاذ پر کویتی فضائیہ کی کارروائیوں کے دوران 3 امریکی ایف-15 ای فائٹر طیارے مار گرائے گئے، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فضائی دفاعی کارروائی میں مزید ایک ایف-15 ای اور ایک اے-10 وارتھوگ طیارہ تباہ ہوا۔ اسی طرح ایک ایف-35 فائٹر طیارہ دفاعی نظام کی زد میں آ کر شدید متاثر ہوا جبکہ ایک ایف-18 سپر ہارنیٹ بھی ایرانی کارروائی کے دوران جزوی نقصان کا شکار ہوا۔ مزید برآں دو کے سی-135 ری فیولنگ طیارے فضائی تصادم کا شکار ہوئے، جن میں سے ایک مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ دوسرا شدید متاثر ہوا۔

زمینی محاذ پر بھی امریکی افواج کو غیر معمولی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایک ای-3 اے ڈبلیو اے سی ایس طیارہ خودکش ڈرون حملے میں تباہ ہو گیا، جبکہ اسی نوعیت کے ایک اور حملے میں ایک کے سی-135 ایندھن فراہم کرنے والا طیارہ بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ عراق کے وکٹوریہ بیس میں ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کو کوادکوپٹر ڈرونز کے ذریعے شدید نقصان پہنچایا گیا، جبکہ کویت میں ایک سی ایچ-47 چنوک ہیلی کاپٹر بھی اسی طرز کے حملے میں متاثر ہوا۔ مزید اطلاعات کے مطابق پرنس سلطان ایئر بیس پر موجود 8 کے سی-135 ری فیولنگ طیارے میزائل حملوں کے نتیجے میں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں، جو کہ امریکی فضائی آپریشنز کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ تمام واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ موجودہ جنگ میں فضائی برتری کا تصور شدید چیلنج کا شکار ہو چکا ہے۔ ایران کی جانب سے جدید فضائی دفاعی نظام اور ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال نے امریکی فضائیہ کی حکمت عملی کو متاثر کیا ہے اور اس کے آپریشنل اعتماد کو بھی متزلزل کر دیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف جنگ کے آئندہ مراحل پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں عسکری اتحادوں اور دفاعی پالیسیوں کی ازسرِنو تشکیل کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں