ایران کی فوجی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ کوئی روایتی، مکمل طور پر مرکزی کمان کے تحت چلنے والی فوج نہیں بلکہ ایک پیچیدہ، ملٹی لیئرڈ اور جزوی طور پر ڈی سینٹرلائزڈ نظام ہے۔ بظاہر یہ بات کہ ایران کے 31 یونٹس آزاد لڑ رہے ہیں ایک سادہ جملہ لگتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے ایک انتہائی گہری عسکری سوچ اور دہائیوں پر محیط اسٹریٹیجک منصوبہ بندی موجود ہے۔
ایران نے اپنی دفاعی پالیسی کو اس بنیاد پر تشکیل دیا ہے کہ اگر کسی بڑے دشمن، خاص طور پر امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ براہ راست جنگ ہو جائے اور ابتدائی حملوں میں اس کی مرکزی کمان، کمیونی کیشن سسٹمز یا بڑے فوجی اڈے تباہ بھی ہو جائیں، تو بھی جنگ ختم نہ ہو بلکہ ایک نئے انداز میں جاری رہے۔
ایران کی فوجی ساخت دو بڑے حصوں پر مشتمل ہے: ایک روایتی فوج یعنی ایرانی آرمڈ فورسز، اور دوسرا زیادہ نظریاتی، متحرک اور اسٹریٹیجک ادارہ اسلامی انقلابی گارڈ کور۔ پاسدارانِ انقلاب اسلامی دراصل ایران کی اس غیر روایتی جنگی حکمت عملی کا مرکز ہے۔ اس کے اندر بھی مختلف شاخیں ہیں، جیسے گراؤنڈ فورسز، نیول فورسز، ایرو اسپیس فورسز، اور بسیج۔ خاص طور پر آئی آر جی سی گراؤنڈ فورسز کو اس انداز میں منظم کیا گیا ہے کہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں خودمختار انداز میں آپریشن کر سکیں۔ 31 یونٹس کی اصطلاح کو اگر درست تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا تعلق ایران کے 31 صوبوں سے جوڑا جا سکتا ہے، جہاں ہر صوبے میں آئی آر جی سی اور بسیج کا اپنا الگ کمانڈ اسٹرکچر موجود ہے۔ یہ یونٹس بظاہر خودمختار نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک وسیع اسٹریٹیجک فریم ورک کے اندر کام کرتے ہیں۔
مرکزی قیادت، جیسے سپریم لیڈر اور اعلیٰ عسکری قیادت، جنگ کے بڑے اہداف، ترجیحات اور حدود طے کرتی ہے، لیکن ان اہداف کو حاصل کرنے کے طریقہ کار میں نچلی سطح کے کمانڈرز کو خاصی آزادی دی جاتی ہے۔ اسی کو عسکری زبان میں مشن کمانڈ کہا جاتا ہے، جہاں مقصد واضح ہوتا ہے مگر طریقہ کار مقامی کمانڈر کی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ایران نے خاص طور پر ڈی سینٹرلائزڈ وارفیئر کو اس لیے اپنایا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ جیسے ممالک کو برتری حاصل ہے، جو کسی بھی جنگ کے آغاز میں کمیونی کیشن نیٹ ورکس، سیٹلائٹس اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایسے میں اگر تمام فوجی فیصلے ایک ہی مرکز سے ہو رہے ہوں تو پورا نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔ لیکن ایران کے ماڈل میں اگر مرکزی کمان سے رابطہ منقطع بھی ہو جائے تو ہر ریجنل یونٹ اپنی سطح پر جنگ جاری رکھ سکتا ہے، اپنے وسائل استعمال کر سکتا ہے اور مقامی حالات کے مطابق حکمت عملی ترتیب دے سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کی جنگی حکمت عملی کو ایسیمیٹرک وارفیئر یعنی غیر متوازن جنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں وہ براہ راست ٹینک بمقابلہ ٹینک یا جہاز بمقابلہ جہاز کی لڑائی سے گریز کرتا ہے اور اس کے بجائے چھوٹے، تیز رفتار، اور لچکدار یونٹس پر انحصار کرتا ہے۔ ڈرون حملے، میزائل سسٹمز، گوریلا طرز کی لڑائی، اور زمینی فورسز کا استعمال اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ بسیج ایک ایسی فورس ہے جو عام شہریوں کو بھی جنگی حالات میں متحرک کر سکتی ہے، جس سے دفاع کا دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔
ایران نے ایک ایسا نظام بنایا ہے جس میں سینٹرل اسٹریٹیجی اور لوکل ایگزیکیوشن کا امتزاج موجود ہے۔ یعنی بڑی تصویر مرکز طے کرتا ہے، لیکن اس تصویر کو عملی شکل دینے کے لیے ہر یونٹ کو حالات کے مطابق فیصلے کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ یہی ماڈل ایر8ان کو ایک ایسی فوج بناتا ہے جو نہ صرف حملے کو برداشت کر سکتی ہے بلکہ طویل عرصے تک مزاحمت بھی جاری رکھ سکتی ہے، اور یہی اس کی اصل حرارکی یعنی ڈائنامک ملٹری لاجک ہے۔