یورینیم افزودگی پر اصرار کیوں؟ عباس عراقچی نے واضح کردیا

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورینیم افزودگی کے معاملے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا، چاہے اس کے نتیجے میں پھر سے جنگ کا خطرہ ہی کیوں نہ پیدا ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ یورینیم پر ایران کا اصرار محض ایک سائنسی یا تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ یہ قومی خودمختاری اور آزادی کے اصول سے جڑا ہوا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک یا عالمی طاقت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ایران کو یہ بتائے کہ اسے کیا رکھنا چاہیے اور کیا نہیں۔ ان کے مطابق یہ موقف “نفیِ سلطہ” یعنی کسی بھی قسم کے عالمی یا بیرونی غلبے کو مسترد کرنے کے اصول پر مبنی ہے، اور یہی اصول ایران کی پالیسی کی بنیاد ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یورینیم افزودگی ایران کا قانونی حق ہے، اور یہ فیصلہ کہ ایران اس حق کو استعمال کرے یا نہ کرے، صرف ایران کا داخلی معاملہ ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک کے اس مؤقف کو مسترد کیا جس میں کہا جاتا ہے کہ ایران کو افزودگی کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے یا اسے صفر سطح پر لایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کس بنیاد پر ایران کو اس کے جائز حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اگر عالمی برادری کو ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی تشویش ہے تو ایران ان خدشات کو دور کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہر سوال کا جواب دینے، اعتماد سازی کے اقدامات کرنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے آمادہ ہے، لیکن کسی کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ایران پر اپنی مرضی مسلط کرے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کی یہ طویل جدوجہد دراصل اپنے حقوق کے تحفظ کی جنگ ہے۔ ان کے مطابق یورینیم کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ثابت کرنا ہے کہ ایران ایک خودمختار ریاست ہے جو کسی کے دباؤ یا احکامات کو قبول نہیں کرتی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے، اور اگر اس حوالے سے کوئی ابہام موجود ہے تو اسے صرف سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دیگر طریقے آزمائے گئے لیکن وہ ناکام رہے، اس لیے اب واحد راستہ مذاکرات اور باہمی احترام ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کیا جائے اور ان کا احترام کیا جائے۔ ان کے مطابق ایران کسی کی منظوری کا محتاج نہیں بلکہ اس کا حق پہلے ہی سے تسلیم شدہ اور جائز ہے، اور دنیا سے صرف اس حق کے احترام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں