ایران امریکا ڈیڈ لاک برقرار، 21 گھنٹے طویل مذاکرات بے نتیجہ رہے، رپورٹ

پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخ میں پہلی بار ہونے والے براہ راست مذاکرات بغیر کسی حتمی نتیجے کے اختتام پذیر ہو گئے، جس نے خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی سفارتکاری کی پیچیدگیوں کو مزید واضح کر دیا۔ یہ مذاکرات نہ صرف اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی تھے بلکہ ان سے وابستہ توقعات بھی بہت زیادہ تھیں، تاہم اہم تنازعات خصوصاً آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی جنگ بندی جیسے حساس معاملات پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث کوئی بریک تھرو سامنے نہ آ سکا۔

اب تک کے مراحل میں سامنے آنے والی تفصیلات ایک پیچیدہ اور کئی سطحوں پر جاری سفارتی عمل کی عکاسی کرتی ہیں۔

پاکستانی وقت کے مطابق 11 اپریل کی سحر 1:20 پر ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا، جس کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت متعدد اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس وفد میں دفاعی کونسل کے رکن علی اکبر احمدیان، خارجہ امور کونسل کے رکن علی باقری کنی، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر اسماعیل احمدی مقدم، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے اسسٹنٹ سیکریٹری محمد جعفری، مرکزی بینک کے صدر ناصر ہمتی، معاونین وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی، مجید تخت روانچی، ولی اللہ نوری، وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی، ارکان پارلیمان ابوالفضل عموی اور محمود نبویان، جبکہ اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی بھی شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق یہ وفد مجموعی طور پر 71 افراد پر مشتمل تھا، جس میں ماہرین، صحافی، سکیورٹی اور پروٹوکول اسٹاف بھی شامل تھا۔ نور خان ایئربیس پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ان کا استقبال کیا۔ ایران سے روانگی سے قبل قالیباف نے واضح کیا کہ لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کی شرائط تاحال پوری نہیں ہوئیں، جبکہ ایک اہم ایرانی ذریعے نے انکشاف کیا کہ ایران لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ردعمل دینے کا فیصلہ کر چکا تھا، تاہم پاکستان کی درخواست پر اسے مؤخر کیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ پر عدم اعتماد کے باوجود پاکستان کی ضمانت اور چین کی سفارش پر مذاکرات میں شرکت کی گئی۔

دوسری جانب امریکی وفد پاکستانی وقت کے مطابق ہفتہ کی صبح 10:25 پر اسلام آباد پہنچا، جس کا طیارہ SAM095 کال سائن کے ساتھ امریکی ایئر فورس کے خصوصی بوئنگ سی-32اے پر مشتمل تھا۔ نور خان ایئربیس پر اسحاق ڈار، جنرل عاصم منیر، محسن نقوی، قومی سلامتی کے مشیر محمد عاصم ملک اور امریکی سفیر نتالی اے بیکر نے استقبال کیا۔ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، مشرق وسطیٰ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف، سابق صدارتی مشیر جیرڈ کشنر، قومی سلامتی کے مشیر اینڈریو بیکر اور ایشیائی امور کے مشیر مائیکل وینس شامل تھے، جبکہ امریکی صحافی اور پروٹوکول اسٹاف ایک روز قبل ہی پہنچ چکا تھا۔ روانگی سے قبل جے ڈی وینس نے مذاکرات کے حوالے سے مثبت رویہ ظاہر کیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیم کو واضح ہدایت دی گئی کہ کسی بھی صورت نتیجہ حاصل کیا جائے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا امریکی ریڈ لائن ہے۔

مذاکرات کے پہلے مرحلے میں بالواسطہ رابطے ہوئے، اس دوران ایرانی وفد نے جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی، جہاں پاکستانی قیادت نے سہ فریقی مذاکرات پر زور دیا تاکہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ ایران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے خاتمے کی شرط رکھی جس پر پاکستان نے امریکہ کو قائل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ بعد ازاں ایرانی وفد اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان دوپہر 1:30 بجے ملاقات ہوئی، جس میں ایران نے اپنا 10 نکاتی ایجنڈا پیش کیا اور اپنی چار اہم ریڈ لائنز واضح کیں جن میں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، جنگی نقصانات کا معاوضہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور مشرق وسطیٰ میں حقیقی جنگ بندی شامل تھی۔ اس موقع پر سعودی عرب کے کردار کا بھی ذکر ہوا اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا گیا۔

اس کے بعد امریکی وفد سے ملاقات میں امریکہ نے آبنائے ہرمز کی مکمل آزادی پر زور دیا، جنگی ہرجانے کو مسترد کیا جبکہ لبنان میں جنگ بندی اور اثاثوں کی جزوی بحالی پر آمادگی ظاہر کی۔ شام 6 بجے شروع ہونے والے براہ راست مذاکرات میں دونوں فریقین نے اپنے مؤقف پیش کیے، تاہم آبنائے ہرمز پر شدید اختلاف برقرار رہا۔ پاکستانی حکام کے مطابق امریکہ ایک متوازن سیزفائر معاہدہ چاہتا ہے جبکہ ایران اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔

تیسرے مرحلے میں تکنیکی سطح پر مذاکرات رات 9 بجے کے بعد شروع ہوئے، جہاں دونوں فریقین نے تفصیلی تکنیکی امور کا جائزہ لیا، جن میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، ممکنہ مشترکہ نگرانی، پابندیوں کے خاتمے اور اثاثوں کی بحالی کے طریقہ کار شامل تھے۔ اس دوران ایران نے پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ سیکیورٹی تجویز کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا، تاہم اس پر تکنیکی بحث جاری رہی۔ مذاکرات کے دوران ایران کے مزید تکنیکی ماہرین بھی خصوصی طیاروں کے ذریعے اسلام آباد پہنچے، جن میں پاسداران انقلاب سے وابستہ افراد کی آمد کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

رات گئے مذاکرات میں وقفے کے بعد دوبارہ بات چیت کا آغاز ہوا جو مجموعی طور پر 9 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جبکہ کل مذاکراتی عمل تقریباً 21 گھنٹے تک محیط رہا۔ ذرائع کے مطابق ایک عبوری معاہدے پر بھی غور کیا گیا، تاہم آبنائے ہرمز کا معاملہ بدستور سب سے بڑا تنازعہ رہا۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے خاتمے کی امریکی شرط کو بھی مسترد کر دیا اور اسے اپنا جائز حق قرار دیا۔

آخر میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے پریس بریفنگ میں اعتراف کیا کہ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی، اپنی شرائط پیش کیں اور ایک حتمی پیشکش دے کر واپس جا رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ناکامی کی وجہ پاکستان نہیں بلکہ دونوں فریقین کے درمیان اختلافات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے واضح یقین دہانی نہیں دی گئی، جو امریکہ کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اختلافات کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ مجموعی طور پر اسلام آباد مذاکرات ایک اہم سفارتی پیش رفت ضرور ہیں، تاہم کلیدی معاملات خصوصاً آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے ڈیڈلاک بدستور برقرار ہے، جس کے باعث حتمی معاہدہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔

اپنا تبصرہ لکھیں