متحدہ عرب امارات ایک بار پھر اپنے اصل چہرے کے ساتھ سامنے آ گیا ہے، جہاں سیکیورٹی کے نام پر سیاسی انتقام اور بین الاقوامی ایجنڈے کی تکمیل کی جا رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں ایرانی اور پاکستانی شہریوں، خصوصاً تاجروں، کی گرفتاریوں کا سلسلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاملہ صرف قانون نافذ کرنے کا نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے بیانیے کو آگے بڑھانے کا ہے۔ اب اماراتی حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے لایا گیا ہے کہ ایران سے وابستہ ایک مبینہ دہشتگرد تنظیم کو گرفتار کیا گیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ الزام اچانک کیوں اور کس کے اشارے پر سامنے آیا؟
حقیقت یہ ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران نیتن یاہو کی پالیسیوں کی کھلی حمایت اورڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد، متحدہ عرب امارات نے خود کو ایک ایسے کیمپ میں کھڑا کر لیا ہے جہاں دشمنی کی بنیاد حقائق نہیں بلکہ مفادات ہوتے ہیں۔ ایرانی شہریوں کی پکڑ دھکڑ اور پھر انہیں دہشتگرد قرار دینا دراصل اسی پالیسی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے، جس میں پہلے مخالف کو نشانہ بناؤ اور پھر اس کے خلاف بیانیہ گھڑو۔
اماراتی حکام کے دعوؤں میں نہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیا گیا ہے، نہ ہی ماضی میں کبھی ایسا کوئی واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایران کو براہِ راست امارات کے اندر دہشتگردی سے جوڑا جا سکا ہو۔ اگر واقعی کوئی خطرہ موجود تھا تو کیا وجہ ہے کہ آج تک اس نوعیت کی کوئی کارروائی یا نیٹ ورک بے نقاب نہیں ہوا؟ یہ تضاد خود اماراتی مؤقف کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ ایک سیاسی اسکرپٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران کو عالمی سطح پر بدنام کرنا اور خطے میں ایک خاص بیانیے کو فروغ دینا ہے۔
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ خود متحدہ عرب امارات کی علاقائی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ یمن میں جاری جنگ ہو یا سوڈان میں صورتحال،متحدہ عرب امارات دونوں ممالک میں دہشتگردی میں براہ راست ملوث ہے۔ ایسے میں اگر یہی ریاست دوسروں پر دہشتگردی کے الزامات لگائے تو یہ ایک کھلا تضاد نظر آتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات واقعی اماراتی عوام کے مفاد میں ہیں یا صرف حکمرانوں کے عالمی اتحادیوں کو خوش کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ریاستیں اپنے داخلی فیصلے بیرونی دباؤ پر کرنے لگتی ہیں تو اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ایرانی شہریوں کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف انسانی حقوق کے حوالے سے تشویشناک ہے بلکہ خطے میں مزید کشیدگی کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ اگر الزامات محض سیاسی بنیادوں پر ہیں تو یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو کل کسی بھی ملک یا قوم کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے اور محض بیانیے کے بجائے ٹھوس شواہد کو سامنے لایا جائے، ورنہ سچ اور پروپیگنڈے کے درمیان لکیر مزید دھندلی ہوتی چلی جائے گی۔