ایرانی مزاحمت فاتح، امریکی غرور خاک میں مل گیا

تاریخ کے اوراق میں کچھ لمحات ایسے بھی ثبت ہوتے ہیں جو محض واقعات نہیں بلکہ طاقت، نظریہ، استقامت اور بیانیے کی جنگ کا فیصلہ کن موڑ بن جاتے ہیں۔ حالیہ ایران۔امریکہ کشمکش بھی ایک ایسا ہی باب بن چکی ہے جس نے عالمی طاقت کے توازن، خطے کی سیاست اور مسلم دنیا کے شعور کو ایک نئے زاویے سے متعارف کروایا ہے۔ یہ محض ایک جنگ نہیں تھی بلکہ ارادوں، حوصلوں اور بیانیوں کا ٹکراؤ تھا، جہاں ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت اپنے تمام تر وسائل، اتحادیوں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ میدان میں تھی اور دوسری طرف ایک ایسا ملک کھڑا تھا جسے برسوں سے تنہا، کمزور اور پابندیوں میں جکڑا ہوا قرار دیا جاتا رہا۔

ایران نے اس پوری کشمکش میں جس صبر، استقلال اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا، وہ صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور نظریاتی بھی تھا۔ چالیس دن تک جاری رہنے والی اس شدید کشیدگی میں بارہا یہ تاثر دیا گیا کہ ایران اب دباؤ میں آ جائے گا، اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہو جائے گا، اپنے میزائل پروگرام کو محدود کر دے گا یا پھر کسی نہ کسی شکل میں سرنڈر پر مجبور ہو جائے گا۔ مگر جو منظر دنیا نے دیکھا وہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ طاقت کے تمام تر مظاہر کے باوجود امریکہ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا اور بالآخر گفتگو کا رخ اس مطالبے کی طرف مڑ گیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جائے۔

یہاں سوال صرف ایک سمندری راستے کا نہیں بلکہ عالمی طاقت کے تصور کا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو ماضی میں عالمی تجارت کا ایک کھلا راستہ تصور کی جاتی تھی، اب ایک نئی اسٹریٹجک حقیقت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اگر ایران واقعی اس پر مؤثر کنٹرول قائم کرتے ہوئے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی تجارتی نظام میں ایک نئی بحث کو بھی جنم دے گی۔ اندازوں کے مطابق سالانہ اربوں ڈالر کی آمدنی اس کے لیے ممکن ہو سکتی ہے، جو خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرے گی۔

دوسری جانب اس جنگ نے ایک اور اہم پہلو کو بھی بے نقاب کیا ہے، اور وہ ہے مسلم دنیا کے اندر موجود تضادات۔ پاکستان میں یہ بیانیہ طویل عرصے سے فروغ دیا جاتا رہا ہے کہ مخصوص ریاستوں پر حملہ گویا اسلام پر حملہ ہے، مگر جب انہی ریاستوں کی جانب سے دیگر مسلم ممالک پر جارحیت ہوتی ہے تو وہی حساسیت کہیں نظر نہیں آتی۔ یمن، عراق، کویت اور دیگر خطوں میں ہونے والی مداخلتوں پر خاموشی اور ایران کے ردعمل پر شدید ردعمل، اس دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔ اس جنگ نے شاید پہلی بار عوامی سطح پر اس بیانیے کو چیلنج کیا ہے اور لوگوں کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور اصل صف بندی کہاں ہے۔

اگر خطے کے بڑے ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستیں، آغاز ہی میں اپنی فضائی حدود اور زمینی اڈے بیرونی طاقتوں کے لیے بند کر دیتیں تو شاید یہ جنگ شروع ہی نہ ہوتی۔ ایران کا محاصرہ صرف سمندری راستوں سے ممکن نہیں تھا، اور یہی حقیقت میدان میں بھی نظر آئی جب جدید ترین بحری بیڑے بھی محتاط حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور دکھائی دیے۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ جدید ٹیکنالوجی اور عسکری برتری کے باوجود زمینی حقیقتیں ہمیشہ یکساں نہیں رہتیں۔

اس جنگ کا سب سے بڑا اثر بیانیے کی سطح پر پڑا ہے۔ جنگ سے پہلے ایران کو تنہا اور کمزور سمجھا جاتا تھا، مگر جنگ کے بعد صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ اب نہ صرف اس کی عسکری صلاحیتوں پر نئی بحث ہو رہی ہے بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طاقت کے تصور پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ جدید جنگی طیاروں اور بحری بیڑوں کی برتری، جو کبھی ناقابلِ چیلنج سمجھی جاتی تھی، اب کم از کم نظریاتی سطح پر چیلنج ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کشمکش کو اب صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ ایک بڑے نظریاتی تصادم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس نے مسلم دنیا کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایران کی مزاحمت کو صرف ایک قومی کامیابی نہیں بلکہ ایک علامتی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس پوری صورتحال میں اصل کامیابی صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ بیانیے، حوصلے اور استقامت میں حاصل کی گئی ہے۔ ایک طرف طاقت کا غرور تھا اور دوسری طرف صبر و مزاحمت کا عزم۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کو ایک بار پھر یہ سبق ملا کہ محض عسکری قوت ہی فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی بلکہ نظریہ، استقامت اور عوامی حمایت بھی تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔

ہم اپنی جانب سے ایرانی قوم، اس کی قیادت اور تمام امت مسلمہ کو اس استقامت اور حوصلے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جاتے ہیں اور تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں