خلیج میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال نے ایک نئی اور خطرناک جہت اختیار کر لی ہے، جہاں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو عسکری، انٹیلی جنس اور معاشی محاذوں پر بیک وقت چیلنجز کا سامنا ہے۔ تازہ رپورٹس اور دعوؤں کے مطابق خطہ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں محدود جھڑپیں ایک وسیع تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہیں، اور اسی تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ کیا خلیج واقعی امریکی فوجی طاقت کے لیے ایک “قبرستان” بنتی جا رہی ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں امریکہ کو فضائی محاذ پر غیر معمولی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب تک تقریباً 25 امریکی جنگی اور معاون طیارے متاثر ہو چکے ہیں، جن میں ری فیولنگ طیارے بھی شامل ہیں جو کسی بھی فضائی جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان طیاروں کے ذریعے جنگی جہازوں کو فضا میں ایندھن فراہم کیا جاتا ہے، جس سے ان کی رینج اور کارروائی کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے میں ان طیاروں کا نشانہ بننا امریکی فضائی برتری کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کے شہر الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئربیس، جو خطے میں امریکی افواج کا ایک اہم مرکز ہے، حالیہ حملوں کے بعد شدید متاثر ہوا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہاں موجود KC-135 ری فیولنگ طیاروں میں سے کم از کم 3 مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ کئی دیگر کو شدید نقصان پہنچا۔ یہ طیارے امریکی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، اس لیے ان کی تباہی صرف مادی نقصان نہیں بلکہ آپریشنل صلاحیت میں واضح کمی کی علامت بھی ہے۔
اسی طرح کویت سے موصول ہونے والی اطلاعات میں 4 امریکی جنگی طیاروں کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ عراق میں بھی ایک ری فیولنگ طیارے کے تباہ ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔ مزید برآں، پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں دو مزید جنگی طیاروں کو نشانہ بنتے دکھانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک جدید F-35 اسٹیلتھ طیارہ بھی جزوی طور پر ناکارہ ہو چکا ہے، جو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سب سے بڑی عسکری برتری سمجھا جاتا ہے۔
بحرین میں بھی کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق ایک امریکی P-8 پوسائیڈن جاسوس طیارے کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہ طیارہ بحری نگرانی اور انٹیلی جنس جمع کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس پر حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب یہ تنازع صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں بلکہ نگرانی اور معلوماتی برتری کے نظام کو بھی براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ادھر ایران کی جانب سے بیانات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کے تعاون سے ایران کے دو بڑے اسٹیل صنعتی مراکز، ایک پاور پلانٹ اور سول نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ حملے ایران کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، اور ایران ان اقدامات کا “بھاری جواب” دینے کے لیے تیار ہے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران اس معاملے کو محدود ردعمل تک رکھنے کے بجائے ایک وسیع اسٹریٹیجک سطح پر لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اسی تناظر میں ایران کی جانب سے ایک غیر معمولی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے جس میں 6 ممالک میں قائم اہم اسٹیل صنعتی مراکز کے قریب کام کرنے والے مزدوروں اور رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان ممکنہ اہداف میں اسرائیل کے شہر اشدود میں یہودا اسٹیل، بحرین کے الحد میں فولاتھ، متحدہ عرب امارات کے ابوظہبی میں امارات اسٹیل، کویت کے شویبہ میں یونائیٹڈ اسٹیل، سعودی عرب کے الجبیل میں حدید ملز اور قطر کے مسیعید میں قطر اسٹیل شامل ہیں۔ یہ تمام صنعتی مراکز نہ صرف مقامی معیشت بلکہ عالمی سپلائی چین میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کو نشانہ بنانے کی دھمکی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اب معاشی انفراسٹرکچر کو بھی جنگی حکمت عملی کا حصہ بنا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے “پری امپٹیو وار” یعنی پیشگی دفاعی کارروائی کا تصور بھی عملی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کویت کے قریب واقع جزیرہ بوبیان پر امریکی میرین فورسز کی موجودگی کا سراغ لگایا اور وہاں ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں میں امریکی کمانڈرز اور فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ زخمی اہلکاروں کو کویت کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
مجموعی طور پر خلیج کی صورتحال اس وقت انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں عسکری تصادم، معاشی دباؤ اور اسٹریٹیجک پیغام رسانی ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو چکے ہیں۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف امریکہ کی علاقائی برتری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو ایک طویل اور خطرناک عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔