حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکی میرینز کی 31ویں ایکسپیڈیشنری یونٹ، جو یو ایس ایس ٹرائپولی پر سوار ہے، آبنائے ملاکا سے گزرتے ہوئے خلیج کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس یونٹ کی تعداد تقریباً 2200 سے 5000 اہلکاروں پر مشتمل بتائی جا رہی ہے، جنہیں جاپان میں تعیناتی سے واپس بلا کر اس ممکنہ محاذ کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ اقدام ایک محدود فوجی دباؤ یا علامتی طاقت کے اظہار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر اس کے پس منظر میں موجود حقائق کہیں زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے، خصوصاً ایران کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز اقدامات، خطے میں ایک ایسی سرخ لکیر عبور کر چکے ہیں جس کے بعد واپسی کے راستے محدود ہو گئے ہیں۔
رہبر معظم سید علی خامنہ ای جیسے مرکزی کردار کو نشانہ بنانے جیسے اقدام کے بعد یہ توقع رکھنا کہ ایران خاموشی سے پسپائی اختیار کر لے گا، ایک غیر حقیقت پسندانہ مفروضہ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب واشنگٹن کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جہاں نہ مکمل جنگ ممکن ہے اور نہ ہی وہ واضح نظر آنے والی پسپائی قبول کرنے کو تیار ہے۔
یہی تضاد امریکی پالیسی سازوں کو ایک خطرناک راستے کی طرف دھکیل رہا ہے، جسے “بوٹس آن دی گراؤنڈ” کہا جا رہا ہے۔ تاہم بنیادی سوال یہی ہے کہ چند ہزار میرینز ایران جیسے وسیع، جغرافیائی طور پر پیچیدہ اور عسکری طور پر منظم ملک میں کیا حاصل کر سکتے ہیں؟ ایران تقریباً 16 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایک ایسا ملک ہے جس کی جغرافیائی ساخت پہاڑ، صحرائیں اور گنجان آباد شہر کسی بھی بیرونی فوج کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتی ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو اس نوعیت کی جزیرہ جاتی یا محدود زمینی کارروائیاں بھی انتہائی مہنگی اور خونریز ثابت ہوئی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے خلاف اوکیناوا اور آئیو جیما جیسے معرکوں میں لاکھوں فوجیوں کی شمولیت کے باوجود بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ایسے میں یہ تصور کرنا کہ صرف 5000 امریکی میرینز ایران کے حساس جزائر—جیسے ہرمز، قشم یا خارک—پر مؤثر قبضہ کر سکتے ہیں، ایک کمزور اور غیر حقیقی حکمت عملی معلوم ہوتی ہے۔
اگر وسیع پیمانے پر حملہ ممکن نہیں، تو پھر اس تعیناتی کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ ایک امکان یہ ہے کہ یہ محض ایک علامتی یا محدود نوعیت کی کارروائی ہو، جسے داخلی سطح پر “کامیابی” کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ ایسی کسی کارروائی میں ایران کے اندر حساس تنصیبات یا افزودہ یورینیم کے ذخائر کو نشانہ بنانے کی کوشش شامل ہو سکتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس امکان کو بھی کمزور بناتے ہیں۔
امریکہ کے پاس ان اہداف کے بارے میں مکمل اور قابلِ اعتماد معلومات کا فقدان ہے، اور چند ہزار فوجیوں کے ذریعے ایسے اہداف حاصل کرنا عملی طور پر نہایت دشوار ہے۔
دوسری جانب، امریکہ کے اندر ہی اس ممکنہ جنگی حکمت عملی کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ریپبلکن کانگریس وومن نینسی میس نے واضح طور پر ایران میں زمینی افواج بھیجنے کی مخالفت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ عوام کو پیش کیے جانے والے جواز اور اصل فوجی اہداف میں واضح تضاد موجود ہے۔ اسی طرح دفاعی تجزیہ کار ڈینیئل ڈیوس نے بھی اس حکمت عملی کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے نہ تو آبنائے ہرمز کی سکیورٹی یقینی بنائی جا سکتی ہے اور نہ ہی ایران کو کسی بڑی اسٹریٹیجک رعایت پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
قومی سلامتی کے رپورٹر الیکس وارڈ کے مطابق امریکی قانون سازوں کے ایک حلقے کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ ایران میں زمینی آپریشن کی منصوبہ بندی پہلے ہی مکمل کی جا چکی ہے، جو کسی بھی وقت عملی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف امریکی کانگریس اور عوام کے درمیان عدم اعتماد کو بڑھا رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکہ کی پالیسی سازی پر سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ “بوٹس آن دی گراؤنڈ” حکمت عملی ایک ایسی مہم دکھائی دیتی ہے جس کے نتائج شکست زدہ، غیر یقینی اور خطرات انتہائی واضح ہیں۔ محدود وسائل کے ساتھ ایک بڑے اور پیچیدہ ملک کے خلاف کارروائی نہ صرف عسکری لحاظ سے کمزور نظر آتی ہے بلکہ سیاسی اور انسانی سطح پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود امریکی تجزیہ کار، قانون ساز اور پالیسی ماہرین اس ممکنہ اقدام کو ایک خطرناک اور خودکش مہم قرار دے رہے ہیں، جس کے نتائج امریکہ کے لیے نہایت بھاری ثابت ہو سکتے ہیں۔