ایران نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے اثرات امریکی اور مغربی پالیسی سازوں پر واضح نظر آ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے توانائی کے انفراسٹرکچر کے خلاف منصوبہ بند فوجی حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا، جو تہران کی جانب سے دی جانے والی سخت وارننگ کے بعد سامنے آیا۔ ایران نے واضح کر دیا تھا کہ اگر اس کے بجلی گھروں یا توانائی کے مراکز پر کوئی حملہ کیا گیا تو وہ خطے میں وسیع اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔ یہ مؤخر کرنے کا فیصلہ ایران کی مضبوط دفاعی اور ہتھیار بندی کی صلاحیتوں کے دباؤ میں سامنے آیا، جس نے عالمی برادری کو ایران کے دفاعی نیٹ ورک کی پیچیدگی اور خودمختاری سے آگاہ کیا۔
ایران کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا تو وہ متناسب ردعمل میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی وابستہ مراکز کو بھی نشانہ بنائیں گے۔ موجودہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی توانائی کی سائٹس، بشمول اہم گیس انفراسٹرکچر، کو نشانہ بنایا۔ تاہم ایران نے استقامت کا مظاہرہ کیا اور اپنے آپریشنل کمانڈ ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے ردعمل جاری رکھا۔
ایران کا پاور گرڈ اور گیس نیٹ ورک مکمل طور پر تباہ کرنا امریکہ کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔ پینٹاگون کی معلومات کے مطابق ایران کے پاس دنیا کے سب سے جدید اور دوہری (ریڈنڈنٹ) پاور اور گیس نیٹ ورک میں سے ایک موجود ہے، جس میں 400 کلو وولٹ اور 230 کلو وولٹ ہائی وولٹیج لائنیں ہر صوبے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ 10 سے زائد آئی جی اے ٹی گیس ٹرنک لائنیں الگ قومی شریان کے طور پر کام کرتی ہیں، اور سینکڑوں سب اسٹیشنز 6 ہمسایہ ممالک کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ساؤتھ پارس، زمین کا سب سے بڑا گیس فیلڈ، پورے نیٹ ورک کو گیس فراہم کرتا ہے، جبکہ ہر 100 سے 200 کلومیٹر پر کمپریسر اسٹیشنز نظام کو خودمختار بناتے ہیں۔ ایران کا گیس نیٹ ورک کینیڈا سے بھی بڑا ہے اور اس کے بین الاقوامی رابطے ترکی، ترکمانستان، پاکستان، آذربائیجان، آرمینیا اور عراق تک پھیلے ہیں، جسے الگ کرنا ممکن نہیں۔
میڈیا پر میزائل لانچز اور “سٹرائیکز” کی خبریں دکھائی جاتی ہیں، لیکن ایران کا بنیادی ڈھانچہ خاص طور پر اس طرح کی جنگ کے لیے بنایا گیا ہے، جسے تباہ کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے حملوں کو مؤخر کیا، کیونکہ پینٹاگون اور امریکی ایجنسیوں نے انہیں بتایا کہ “انگور کھٹے ہیں”۔ ایران عراق یا لیبیا کی طرح نہیں ہے، بلکہ گزشتہ 40 سال میں ہر ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہا ہے۔
دوسری جانب، جنگ کے دوران ایک اور خطرناک پیش رفت میں برطانوی جوہری آبدوز ایچ ایم ایس آنسن بحیرہ عرب پہنچ گئی ہے اور اپنی پوزیشن سنبھال لی ہے۔ یہ آبدوز ٹوماہاک کروز میزائل اور جدید تارپیڈوز سے لیس ہے، اور ایران تک حملے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایچ ایم ایس آنسن نے آسٹریلیا سے 5500 میل کا طویل سفر طے کیا اور ہر 24 گھنٹے بعد رابطے کے لیے سمندر کی سطح کے قریب آتی ہے۔ یہ اقدام واضح طور پر برطانیہ کے جنگ میں شمولیت اور ایران کو ایٹمی دھمکی دینے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔
اسی دوران، مشرق وسطیٰ میں ایران کی پہلی بڑی سفارتی اور اسٹریٹجک کامیابی بھی سامنے آئی، جب نیٹو نے عراق سے اپنی فوجی اہلکاروں کو انخلا کی اطلاع دی۔ اتحاد نے 48 گھنٹوں کے اندر اہلکاروں کو محفوظ طریقے سے یورپ منتقل کر دیا اور اپنے ہیڈکوارٹر اطالوی شہر نیپلز سے مشن کی نگرانی جاری رکھی۔ عراق سے نیٹو کے فوجی دستوں کا انخلا ایران کی حکمت عملی کی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو خطے میں امریکی اور مغربی اثر و رسوخ کو محدود کرنے میں تہران کی پوزیشن کو مستحکم کرتا ہے۔
مزید برآں، ایران نے عالمی پانی کے راستوں میں اپنی موجودگی اور اثرورسوخ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز پر ٹیکس کی ممکنہ حکمت عملی پر غور شروع کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے عالمی برادری کو بتایا کہ دیگر بین الاقوامی پانی کے راستوں میں فیس وصول کی جاتی ہے، لیکن ایران نے دہائیوں سے آبنائے ہرمز کے استعمال کو محفوظ اور مفت رکھا۔ ایران نے یوآن پر ٹریڈ کرنے والوں کے لیے دروازہ کھلا رکھا، جبکہ مستقبل میں کسی ممکنہ ٹیکس کا کوئی اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔
یہ تمام پیش رفت ظاہر کرتی ہیں کہ ایران نے اپنی توانائی، عسکری، اور جغرافیائی صلاحیتوں کے ذریعے خطے میں ایک طاقتور توازن قائم کیا ہے۔ امریکی و مغربی طاقتیں ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام سے پہلے دو بار سوچنے پر مجبور ہیں، جبکہ ایران نے اپنی دفاعی اور اسٹریٹجک حکمت عملی کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ کو مستحکم کیا ہے۔