آپ کس طرف کھڑے ہیں، شہید علی لاریجانی کا مسلم ممالک سے سوال، تاریخ بن گیا

آپ کس طرف ہیں؟ یہ سوال صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک تاریخی پکار ہے، ایک ایسا فکری دھماکہ جو ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہی وہ سوال تھا جوشہید ڈاکٹر علی لاریجانی نے مسلم دنیا کے سامنے رکھا، اور آج بھی یہ سوال فضا میں گونج رہا ہے۔ جب ایران پر حملہ ہوا، جب ایک خودمختار ریاست کو نشانہ بنایا گیا، تو عالمِ اسلام کی اکثریت خاموش تماشائی بنی رہی۔ کچھ ممالک نے رسمی مذمت کی، وہ بھی ایسی کہ جیسے الفاظ میں جان ہی نہ ہو، اور کچھ نے تو لب کھولنا بھی گوارا نہ کیا۔ یہ خاموشی صرف سفارتی کمزوری نہیں بلکہ ایک فکری دیوالیہ پن کی علامت بن گئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضگی کے خوف نے کئی حکمرانوں کی زبانوں کو بند کر دیا۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ایٹمی ملک کے وزیر اعظم شہباز شریف کی بھی امریکی جارحیت پر خاموشی نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا کہ کیا مسلم امہ کی قیادت اب صرف بیانات اور مفادات تک محدود ہو چکی ہے؟ کیا امت مسلمہ کی غیرت اور خودمختاری محض عالمی طاقتوں کے اشاروں کی محتاج ہو گئی ہے؟ یہی وہ لمحہ تھا جہاں علی لاریجانی کا سوال “آپ کس طرف ہیں؟” ایک آئینے کی طرح کھڑا ہو گیا، جس میں ہر حکمران اور ہر ریاست کا اصل چہرہ نظر آنے لگا۔

ڈاکٹر علی لاریجانی صرف ایک سیاستدان نہیں تھے، بلکہ وہ ایک نظریہ، ایک فکر، اور ایک انقلابی روح کا نام تھے۔ ان کی زندگی ایران کے انقلابی نظام کی تشکیل، استحکام اور دفاع میں گزری۔ وہ ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاست کو مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایران کے موقف کو ایک فکری اور سفارتی طاقت دی۔ بطور سفیر، انہوں نے ایران کا مؤقف دنیا کے سامنے نہایت مدلل انداز میں پیش کیا۔ بطور سیاستدان، انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اپنایا۔

ان کی شخصیت میں ایک مفکر کی گہرائی، ایک مدبر کی بصیرت، اور ایک انقلابی کی جرات یکجا تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو حالات کے مطابق اپنے نظریات بدل لیتے ہیں، بلکہ وہ ان میں سے تھے جو حالات کو اپنے نظریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا تعلق اس فکری مکتب سے تھا جس کی بنیاد شہید مرتضیٰ مطہری جیسے عظیم مفکر نے رکھی۔ مطہری کے شاگرد ہونے کا مطلب صرف علم حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک انقلابی شعور کو اپنانا تھا، اور لاریجانی نے اس شعور کو اپنی پوری زندگی میں عملی شکل دی۔

سپاہ پاسداران کے ساتھ ان کا تعلق صرف ایک ادارہ جاتی وابستگی نہیں تھا بلکہ ایک فکری اور نظریاتی رشتہ تھا۔ وہ اس قوت کے استاد سمجھے جاتے تھے جو ایران کی دفاعی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے۔ انہوں نے نئی نسل کو صرف جنگی حکمت عملی نہیں بلکہ فکری مزاحمت کا درس دیا۔ ان کے نزدیک اصل جنگ ہتھیاروں کی نہیں بلکہ نظریات کی ہوتی ہے، اور یہی وہ جنگ ہے جس میں انہوں نے اپنی پوری زندگی صرف کی۔

ایران کے نظام میں ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ہر اہم مرحلے پر ایک کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ چاہے وہ داخلی پالیسی ہو یا خارجی حکمت عملی، لاریجانی کی رائے کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو صرف فیصلے نہیں کرتے بلکہ فیصلوں کے پیچھے ایک فکری بنیاد بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی موجودگی ایران کے لیے ایک فکری ستون کی حیثیت رکھتی تھی۔

ان کی شہادت یا ان کے خلاف سازشوں کی خبریں صرف ایک فرد کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ ایک نظریے کے خلاف حملہ سمجھی جاتی ہیں۔ کیونکہ لاریجانی جیسے لوگ صرف جسمانی طور پر ختم نہیں ہوتے بلکہ ان کی فکر زندہ رہتی ہے، اور وہی فکر آنے والی نسلوں کو بیدار کرتی ہے۔

آج جب مسلم دنیا ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جب عالمی طاقتیں اپنی مرضی کے نقشے ترتیب دے رہی ہیں، تو علی لاریجانی کا سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ “آپ کس طرف ہیں؟” کیا آپ حق کے ساتھ ہیں یا خاموشی کے پردے میں باطل کا ساتھ دے رہے ہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں