امریکہ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات محدود ہوگئے، تجزیہ

امریکہ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات اس وقت شدید حد تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ معروف تجزیہ کار جان کیریاکو اور ٹیڈ رال کے مطابق، واشنگٹن نہ تو فوجی لحاظ سے اس پوزیشن میں ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر اس حد تک آزاد ہے کہ ایران پر کوئی بڑی یا فیصلہ کن ضرب لگا سکے۔ ان کے بقول، امریکی میڈیا میں ایران کے اندر جاری احتجاجات کے حوالے سے جو بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے، وہ زیادہ تر اسرائیلی پروپیگنڈے سے متاثر ہے اور زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف مؤثر امریکی فوجی حملہ لاجسٹک طور پر ممکن نہیں۔ خلیج فارس میں اس وقت کوئی مکمل امریکی ایئرکرافٹ کیریئر گروپ موجود نہیں، جبکہ امریکی بحری طاقت کا بڑا حصہ تائیوان کے قریب چین کو روکنے اور یوکرین کی حمایت میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں ایران جیسے بڑے اور منظم ملک پر حملہ نہ صرف مشکل بلکہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی اڈے اور مفادات فوری جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں رضا پہلوی کو بھی ایک ناکام اور غیر مؤثر مہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وہ ایرانی عوام میں کسی بھی قسم کی مقبولیت یا اخلاقی حیثیت نہیں رکھتے اور انہیں ایک اسرائیلی سرپرستی یافتہ سیاسی پپٹ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے اسرائیل سے قریبی تعلقات انہیں ایرانی معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول بناتے ہیں اور ایسی کسی بھی صورت میں وہ آزادانہ فیصلے کرنے کے بجائے بیرونی ایجنڈے کے پابند ہوں گے۔

ایران میں احتجاجات کے حوالے سے پیش کیے جانے والے جانی نقصان کے اعداد و شمار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کیریاکو اور رال کے مطابق یہ اعداد و شمار زیادہ تر لندن اور واشنگٹن میں قائم ایسی انسانی حقوق کی تنظیموں سے آ رہے ہیں جن پر اسرائیلی انٹیلی جنس اور سی آئی اے سے بالواسطہ روابط کے الزامات ہیں۔ ان کے مطابق یہ معلومات ایک منظم انفارمیشن وار کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایران کو عالمی سطح پر غیر مستحکم دکھانا ہے۔

تہران میں فائر انجنز اور عوامی املاک کو جلانے جیسے واقعات کو بھی سادہ احتجاج کے بجائے بیرونی پشت پناہی سے کی جانے والی تخریبی کارروائیاں قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا مقصد ہنگامی خدمات کو مفلوج کرنا اور ملک میں بدامنی کو مزید بڑھانا ہے تاکہ ریاستی ڈھانچے پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

مجموعی طور پر امریکی فوجی دھمکی اب اپنی سابقہ شدت کھو چکی ہے۔ یو ایس ایس فورڈ جیسے اہم جنگی اثاثوں کی دیگر محاذوں پر منتقلی نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی کانگریس بھی سخت مؤقف اختیار کر رہی ہے اور واضح کر چکی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے باضابطہ اجازت درکار ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکہ کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آتا بھی ہے تو وہ محدود نوعیت کا ہوگا، جیسے کوئی مخصوص ہدف پر دقیق حملہ یا سائبر آپریشن۔ وسیع پیمانے پر جنگ یا براہِ راست فوجی تصادم کے امکانات فی الحال نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتے ہیں، چاہے صدر ٹرمپ کی بیان بازی کتنی ہی جارحانہ کیوں نہ ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں