ایران کیخلاف مغرب کی مشترکہ یلغار، رجیم چینج خواب ہی رہے گا، رضی طاہر کا تجزیہ

ایک جانب پورا مغرب تیزی سے ایران کے خلاف یکجا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مغربی طاقتوں کے بیانات اور سفارتی سرگرمیوں سے یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا ہے کہ ایران میں رجیم چینج کی کوششیں اب کھل کر زیرِ غور ہیں۔ اس تناظر میں اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ عسکری کارروائی سامنے آئے، جسے نیٹو کی سیاسی اور عسکری پشت پناہی حاصل ہو، تو یہ کوئی غیر متوقع پیش رفت نہیں ہوگی۔ جرمنی کی جانب سے ایرانی حکومت کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دینے کا بیان اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے، جو مستقبل میں سخت اقدامات کیلئے جواز پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکومت اپنے مؤقف پر پوری مضبوطی سے کھڑی نظر آتی ہے۔ تہران نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کسی دباؤ، دھمکی یا یکطرفہ ڈیل کیلئے تیار نہیں، نہ ہی اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ایران کے مختلف شہروں میں لاکھوں افراد کا سڑکوں پر نکل آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں ایرانی ریاست اور عوام ایک بار پھر یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ عوامی طاقت امریکی اور مغربی منصوبہ سازوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ داخلی سطح پر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے رہیں۔

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے بھی ملک میں رجیم چینج کا باعث نہیں بن سکتے۔ تاریخ اور زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ بیرونی عسکری مداخلت اکثر ایسے معاشروں کو مزید متحد کر دیتی ہے جنہیں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔

ایران کے معاملے میں بھی یہی امکان غالب ہے کہ کسی بھی براہ راست حملے کی صورت میں قومی یکجہتی مزید مضبوط ہو گی اور مزاحمتی جذبہ شدت اختیار کرے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف زمینی جنگ کا آغاز اسرائیل اور امریکہ دونوں کیلئے عملی طور پر ناممکنات میں شمار ہوتا ہے۔ جغرافیائی پیچیدگیاں، خطے میں ایران کے اتحادی، اور طویل جنگ کے خطرناک نتائج ایسے عوامل ہیں جو اس آپشن کو انتہائی مہنگا اور خطرناک بنا دیتے ہیں۔ فضائی حملوں کی صورت میں بھی ایران نہ صرف اپنے
دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے بلکہ جوابی کارروائی میں اسرائیل کے اندر گہرائی تک اہداف کو نشانہ بنانے اور خطے میں موجود امریکی بحری و زمینی اثاثوں کو شدید نقصان پہنچانے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔

انہی حقائق کی بنیاد پر یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ امریکی خفیہ ادارے ٹرمپ کو براہ راست بڑی عسکری کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس موجودہ حکمتِ عملی زیادہ تر اقتصادی دباؤ، پابندیوں، نفسیاتی جنگ اور داخلی خلفشار پیدا کرنے کی کوششوں پر مبنی ہے۔ تاہم ماضی کے تجربات اور حالیہ حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کو اس طریقے سے کمزور کرنا بھی ایک مشکل اور غیر یقینی منصوبہ ہے، جس کے نتائج امریکہ کی توقعات کے برعکس بھی نکل سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں