ایران نے نیوکلیئر میڈیسن کے انتہائی خصوصی اور ہائی ٹیک میدان میں غیر معمولی ترقی حاصل کرتے ہوئے خود کو دنیا کی صفِ اول کی طاقتوں میں شامل کر لیا ہے۔ آج اسلامی جمہوریہ ایران ریڈیو فارماسیوٹیکلز اور نیوکلیئر امیجنگ آلات کے شعبے میں دنیا کے تین بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور جدید تشخیص و علاج کے ذریعے دنیا بھر کے لاکھوں کینسر مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن بن چکا ہے۔
عالمی ریڈیو فارماسیوٹیکل مارکیٹ، جو جدید طب کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے، تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ 2024 میں اس کی مالیت 7.64 بلین ڈالر تھی، جو اندازوں کے مطابق 2034 تک 35 بلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ اس بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں ایران اب صرف صارف نہیں بلکہ ایک مضبوط فراہم کنندہ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ایٹمی توانائی کے ایرانی ادارے اور جدید نالج بیسڈ کمپنیوں نے ملک میں ایسا مکمل انفراسٹرکچر قائم کر لیا ہے جو تحقیقاتی ری ایکٹرز، سائیکلوٹرونز، ڈائیگنوسٹک ایجنٹس اور ایڈوانس تھیرانوسٹک علاج سمیت پورے ویلیو چین کا احاطہ کرتا ہے۔
ایران میں نیوکلیئر میڈیسن کا آغاز اگرچہ 1960 کی دہائی میں ہوا، مگر اسلامی انقلاب کے بعد اس شعبے نے غیر معمولی رفتار پکڑی۔ آج ملک میں 200 سے زائد نیوکلیئر میڈیسن مراکز فعال ہیں، جہاں 279 SPECT اور 26 PET/CT اسکینرز کام کر رہے ہیں۔ یہ سہولت ایران کے تمام 31 صوبوں تک پہنچ چکی ہے، جو ترقی پذیر ممالک میں ایک غیر معمولی مثال ہے۔ پارس آئسوٹوپ کمپنی کے تحت 69 سے زائد ریڈیو فارماسیوٹیکلز کی مقامی تیاری نے ایران کو عالمی سپلائی چین اور بیرونی دباؤ سے بڑی حد تک آزاد کر دیا ہے۔
تہران، شیراز اور مشہد میں جدید سائیکلوٹرونز کی تنصیب نے فلورین 18 جیسے قلیل العمر آئسوٹوپس کی بروقت تیاری ممکن بنا دی ہے، جس سے کینسر کی ابتدائی تشخیص میں انقلابی بہتری آئی ہے۔ ایران میں ہر سال 6,500 سے زائد نیوکلیئر میڈیسن پروسیجرز انجام دیے جا رہے ہیں، جو اس شعبے کی وسعت اور افادیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
تحقیق اور جدت کے میدان میں بھی ایران نے عالمی اجارہ داریوں کو چیلنج کیا ہے۔ اپریل 2025 میں ایران نے Rhenium-188 کی کمرشل سطح پر پیداوار شروع کر کے جرمنی کی دہائیوں پر محیط اجارہ داری ختم کر دی۔ اس آئسوٹوپ سے تیار کردہ ٹاپیکل کریم جلدی سرطان کے علاج میں 94 فیصد ریمی شن دکھا چکی ہے اور یہ طریقہ سرجری کا ایک غیر تکلیف دہ اور مؤثر متبادل بن رہا ہے۔ اسی طرح Gallium-FAPI جیسے جدید تشخیصی ایجنٹس 30 سے زائد اقسام کے کینسر کی بہتر تشخیص میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
ایران نے Technetium-99m Tilmanocept کی بھی مقامی تیاری شروع کر کے امریکہ کے بعد دنیا کا دوسرا ملک ہونے کا اعزاز حاصل کیا، جو سرجنز کے لیے کینسر کے پھیلاؤ کی درست نشاندہی میں نہایت اہم ثابت ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں نے اگرچہ آلات، پرزہ جات اور مالی لین دین میں مشکلات پیدا کیں، مگر ایران نے ان رکاوٹوں کو ٹیکنالوجیکل خودمختاری میں تبدیل کر لیا۔ آج ایران ریڈیو فارماسیوٹیکلز کی برآمدات سے سالانہ تقریباً 70 ملین ڈالر کما رہا ہے اور 15 ممالک کو طبی مصنوعات فراہم کر رہا ہے۔
مستقبل میں ایران کا فوکس PET/CT انفراسٹرکچر کی مزید توسیع، مصنوعی ذہانت کو تشخیصی عمل میں شامل کرنے اور اگلی نسل کے تھیرانوسٹک آئسوٹوپس، خصوصاً Actinium-225 کی تیاری پر ہے، تاکہ انتہائی جارحانہ اور پیچیدہ سرطان کے علاج کو ممکن بنایا جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں 60 فیصد کینسر مریضوں کو ریڈیوتھراپی تک رسائی حاصل نہیں، اور اس خلا کو پُر کرنے میں ایران کا کردار مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
اسی تسلسل میں ایران نے سٹیم سیل سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے۔ ایران دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں 250,000 سے زائد امبلیکل کارڈ خون کے نمونے محفوظ کیے جا چکے ہیں، جو بچے کی پیدائش کے وقت ناف سے حاصل کیا جاتا ہے اور مستقبل کے علاج کے لیے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ یہ کامیابی ایران کو مغربی ایشیا کا سب سے بڑا اور معتبر سٹیم سیل ذخیرہ مرکز بناتی ہے۔
یہ سفر 2002 میں شروع ہوا، جب ایران میں سٹیم سیل تحقیق ابتدائی مراحل میں تھی۔ آج ایران کا سٹیم سیل سیکٹر صرف کارڈ بلڈ تک محدود نہیں بلکہ بون میرو، پیریفیرل بلڈ، فیٹ ٹشو، امبلیکل کارڈ ٹشو اور ڈینٹل پلپ جیسے متنوع ذرائع تک پھیل چکا ہے۔ اب تک سٹیم سیل اسٹوریج نے تقریباً 1,850 مریضوں کے علاج میں مدد دی اور 900 سے زائد زندگیاں بچائی ہیں، جبکہ خون کے امراض میں ٹرانسپلانٹ کی کامیابی کی شرح 80 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
فی الحال ایران عالمی سطح پر سٹیم سیل تحقیق میں 13ویں اور خطے میں پہلے نمبر پر ہے۔ ملک میں 13 ڈونر سینٹرز قائم ہیں، 91,498 رضاکار رجسٹرڈ ہیں، اور ایران ورلڈ میرو ڈونر ایسوسی ایشن کا باقاعدہ رکن ہے۔ اس وقت 190 سے زائد نالج بیسڈ کمپنیاں 600 سے زیادہ سٹیم سیل اور ریجنریٹو میڈیسن مصنوعات تیار کر رہی ہیں۔
یہ تمام حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران نہ صرف اپنی قومی صحت کی ضروریات پوری کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں انصاف، مساوات اور ٹیکنالوجیکل خودمختاری کی ایک نئی مثال قائم کر رہا ہے۔ نیوکلیئر میڈیسن اور سٹیم سیل سائنس میں یہ پیش رفت ایران کو اکیسویں صدی کی میڈیکل سائنس میں ایک دیرپا اور بااثر مقام دلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔