اگر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو خلیجی ممالک کے پانی کے ذخائر زہر آلود ہو سکتے ہیں اور ہمارے پاس صرف تین دن کے پانی کا ریزرو ہے۔ایک ایسے وقت میں جب ٹرمپ بار بار ایران کو ایٹمی اثاثوں پر حملہ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے، اسرائیل کو بکتر شکن بم فراہم کرکے ایک نئی جنگ کا دروازہ کھول رہا ہے، جب ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ ایک نئے جوہری معاہدے پر مجبور ہو جائے، اور اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی جا چکی ہے، قطری وزیراعظم نے خطرے کی گھنٹی بجادی اور کہا کہ اس جنگ کے نتائج کے نتیجے میں صرف ایران نہیں بلکہ پورا عرب متاثر ہوگا۔
محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے بتایا کہ جوہری آلودگی کے خطرات پورے خطے کے پانی کے ذخائر کے لیے ہیں، جن میں قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی کا یہ بیان نہ صرف ایران کے جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کے نتائج کو اجاگر کرتا ہے بلکہ خطے میں جاری جیو پولیٹیکل کشیدگی کے حوالے سے بھی سنگین خدشات کا اظہار کرتا ہے۔اگر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا جاتا ہے تو ریڈیو ایکٹیو مواد فضا میں پھیل سکتا ہے، جو خطے کے آبی وسائل کو آلودہ کر سکتا ہے۔ خلیجی ممالک، جو اپنی پانی کی ضروریات کے لیے بنیادی طور پر سمندری پانی کو صاف کرنے ، یعنی ڈی سیلی نیشن پر انحصار کرتے ہیں، شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر ریڈیو ایکٹیو آلودگی خلیج فارس میں پھیلتی ہے، تو قطر، کویت، امارات، سعودی عرب اور بحرین جیسے ممالک کے پانی کے ذخائر زہر آلود ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر گامزن تھی تاکہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے میں مزید سخت شرائط کے ساتھ واپس آئے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے تو امریکہ اور اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا سوچ سکتے تھے، جیسا کہ عراق میں 1981 میں اسرائیل نے اوسیراک ری ایکٹر پر حملہ کیا تھا۔ قطر نے ہمیشہ ایران کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر سعودی عرب اور امارات کے دباؤ کے باوجود۔ ایسا لگ رہا ہے کہ قطر اپنی سفارتی حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے خطے میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس بیان کے ذریعے وہ ایران پر حملے کے ممکنہ نقصانات کو نمایاں کر رہا ہے۔
یہاں یہ بتاتا چلوں کہ خلیجی ممالک میں قدرتی میٹھے پانی کے وسائل محدود ہیں، اور وہ ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ جوہری آلودگی سے پانی کا زہر آلود ہونا صرف ایک ماحولیاتی خطرہ نہیں بلکہ ایک انسانی بحران کو بھی جنم دے سکتا ہے، کیونکہ ان ممالک میں زراعت اور روزمرہ کی زندگی کا انحصار انہی پلانٹس پر ہے۔ قطر، جو ماضی میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ثالثی کی کوشش کرتا رہا ہے، اس بیان کے ذریعے خطے میں کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی حل کی اہمیت پر زور دے رہا ہے۔ یہ بیان ایران پر حملے کی صورت میں پورے خلیجی خطے پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جنگ سے باز رکھا جا سکے۔ یہ بیان دراصل خلیجی ممالک کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ پانی کی آلودگی جیسا ماحولیاتی خطرہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے عرب خطے کو متاثر کرے گا۔ اس بیان کا مقصد نہ صرف ایران پر حملے کی روک تھام کے لیے سفارتی دباؤ بڑھانا ہے بلکہ خلیجی ممالک کو بھی متنبہ کرنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کی حمایت کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر غور کریں۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اہم ترین بیان میں کہا ہے کہ بعض تسلط پسند حکومتوں کا مذاکرات پر اصرار مسائل کو حل کرنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ فریق مخالف پر غلبہ حاصل کرنا اور اپنی مرضی مسلط کرنا ہے۔ ہم جدوجہد کریں گے، ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں، ہم اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے۔ یورپیوں کا یہ دعویٰ کہ ایران اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا، ایک طرح کی سینہ زوری ہے۔ ٹرمپ اور اہل یورپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توہین اور ہٹ دھرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ گو کہ انہوں نےو اضح کردیا کہ ایران بدمعاش حکومتوں کے مطالبات ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ دوسری جانب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس نے آیت اللہ خامنہ ای کو خط لکھا، اس حوالے سے ایران کی نیشنل اسمبلی کے اسپیکر نے کہا ہے کہ ہم امریکہ کے کسی خط کا انتظار نہیں کر رہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کو مضبوط بنانا ہی پابندیوں کو بے اثر کرنے اور انکے خاتمے کا حل ہے۔
یہ واضح ہے کہ دھمکیوں اور نئی پابندیاں عائد کرنے کے حکم کے ساتھ مذاکرات، نہ ہی پابندیوں کے خاتمے کا باعث بنیں گے اور نہ کسی نتیجے تک پہنچ سکیں گے۔ حالات اس نہج پر جارہے ہیں کہ امریکہ اپنی ہٹ دھرمی سے مسلسل ایران کو دباو میں لانے کی کوشش کررہا ہے جبکہ ایران ابھی تک کسی دباو میں آنے کے بجائے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بات کررہا ہے۔ بحرحال جنگ کے نتائج انتہائی بھیانک ہوں گے جیسا کہ عرب ممالک کا خوف بھی واضح ہے۔