عرب ریاستوں کی اسرائیل میں سرمایہ کاری کا انکشاف

کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ وہی مسلمان ممالک، جو فلسطینی عوام کے حقوق کے حمایتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، درپردہ ایک ایسی سرمایہ کاری فرم کو فنڈ فراہم کر رہے ہیں جو مقبوضہ فلسطینی زمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر میں ملوث ہے؟ جیرڈ کشنر، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ کے معاہدوں کے معمار، کی قیادت میں چلنے والی کمپنی “ایفینیٹی پارٹنرز” نہ صرف اسرائیلی معیشت کو مضبوط کر رہی ہے بلکہ فلسطینی سرزمین پر قبضے کو تقویت بھی دے رہی ہے اور حیرت انگیز طور پر اس کے پیچھے مالی معاونت کرنے والے ممالک میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ یہ حقیقت نہ صرف دل دہلا دینے والی ہے بلکہ امت مسلمہ کے ضمیر پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔

مشرق وسطیٰ پر نظر رکھنے والی نیو ز ایجنسیز کی رپورٹ کے مطابق کشنر کی سربراہی میں چلنے والی سرمایہ کاری کمپنی ایفینیٹی پارٹنرز، جو سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی مالی مدد سے قائم کی گئی ہے، اب ایک اسرائیلی کمپنی میں سب سے بڑی شیئرہولڈر بن گئی ہے، جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو فنڈ فراہم کرتی ہے۔ 2021 میں قائم ہونے کے بعد سے، کشنر کی کمپنی نے خلیجی ممالک کے خودمختار فنڈز سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ اس میں قطری انویسٹمنٹ اتھارٹی اور ابو ظہبی کی ایک سرمایہ کاری کمپنی کی جانب سے اضافی فنڈنگ بھی شامل ہے۔ ایفینیٹی پارٹنرز نے اسرائیلی مالیاتی ادارے فانکس فنانشل میں تقریباً 10 فیصد حصص خریدنے کا معاہدہ بھی مکمل کر لیا ہے۔ فونکس ایک اسرائیلی مالیاتی گروپ ہے جو انشورنس اور اثاثہ جات مینجمنٹ کی خدمات فراہم کرتا ہے اور دیگر اسرائیلی کمپنیوں میں بھی حصص رکھتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، فونکس کے پاس 11 عوامی اور ایک نجی کمپنی کے حصص ہیں، جو ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہیں جن کے کاروبار کا تعلق مغربی کنارے، مشرقی یروشلم (القدس) اور مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے ہے۔ ان کمپنیوں میں بینک، ٹیلی کمیونیکیشن، ٹرانسپورٹ، توانائی، انجینئرنگ اور ریٹیل کے شعبے شامل ہیں۔ فینکس کے ان 11 عوامی کمپنیوں میں کل حصص کی مالیت تقریباً 4.5 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔

کشنر، جو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، سابق صدر ٹرمپ کے دور میں ابراہیم معاہدے کے مرکزی معمار تھے، جس نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کروائے تھے۔ کشنر نے کھل کر اسرائیل کی حمایت اور وہاں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور وہ مستقبل میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کے خواہاں ہیں۔ فونکس فنانشل نے مغربی کنارے اور گولان کی پہاڑیوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے مالی مدد اور انشورنس فراہم کی ہے۔ فونکس کے پاس مشرقی القدس کی ایک غیر قانونی بستی میں واقع بڑے شاپنگ مال کا 80 فیصد حصہ بھی ہے اور مختلف کمپنیوں میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جو دیگر غیر قانونی بستیوں میں سرگرم ہیں۔ کشنر نے ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں سینئر مشیر کے طور پر کام کیا اور مشرق وسطیٰ کی پالیسی بنانے میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر 2020 میں اسرائیل اور چار عرب ممالک کے ساتھ ابراہیم معاہدے کی تشکیل میں۔ 1967 میں اسرائیل کے مغربی کنارے اور مشرقی القدس پر قبضے کے بعد سے اب تک 700,000 سے زائد اسرائیلی 230 سے زائد غیر قانونی بستیوں میں آباد ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری ان بستیوں کو عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے کیونکہ یہ مقبوضہ علاقوں پر تعمیر کی گئی ہیں۔

تھوڑا ماضی کی طرف جائیں تو سال 2022 میں وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے اسرائیلی ٹیک کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے لیے کروڑوں ڈالر مختص کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ سرمایہ کاری سعودی خودمختار دولت فنڈ کے ذریعے کی جائے گی، جس نے اسرائیلی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کے لیے 2 ارب ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔ یہ سعودی فنڈ کا اسرائیل میں پہلی بار براہِ راست سرمایہ کاری کا موقع ہوگا، جسے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ تعلقات کے لیے “بنیاد رکھنے والا قدم” کہا جا رہا تھا، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سطح پر سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ بحرحال ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہورہا ہے کہ خلیج کے بیشتر ممالک کے نزدیک پیسے سے زیادہ کچھ اہم نہیں ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں